نئی منصوبہ بندی کی ضرورت
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۸
طریقہ استعمال کر رہے ہیں—یہ دو عملی بلاشبہ اُن کے لیے پہلے سے بھی زیادہ ہلاکت خیز ہے۔ اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ مسلمان ساری دنیا میں اپنی تحریکوں پر نظرِ ثانی کریں۔ وہ نظری اعتبار سے اپنی سوچ کو بدلیں، اور عملی اعتبار سے اپنی تحریکوں کو متشددانہ طریقہ کار کے بجائے پر امن طریقہ کار کے اصول پر چلائیں۔ موجودہ حالت میں مسلمانوں کے لیے اس کے سوا کوئی اور انتخاب نہیں۔ یہاں میں مختصر طور پر بتاؤں گا کہ موجودہ حالت میں مسلمانوں کو اپنی نئی پالیسی کن خطوط پر بنانا چاہیے ۔
۱۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ واضح انداز میں اس بات کا کھلا اعلان کیا جائے کہ انڈیا میں، اور دوسرے ملکوں میں مسلمانوں نے جو مسلح تحریکیں شروع کیں، وہ ان کی بہت بڑی غلطی تھی۔ اس اعتراف کے بعد یہ اعلان کیا جائے کہ تمام مسلح تحریکوں کو بلا شرط یک طرفہ طور پر ختم کیا جاتا ہے۔ اس قسم کا اعلان لازمی طور پر ضروری ہے۔ اس کے بغیر مسلمانوں کو کوئی نیا نقطۂ آغاز ہی نہیں ملے گا۔ بدقسمتی سے اس معاملے میں برعکس طریقہ اختیار کیا گیا۔ سلطان ٹیپو سے لے کر یاسر عرفات تک، پچھلے دو سو سال کے اندر جو نا کام لڑائیاں لڑی گئیں، اب تک ہمارے لکھنے اور بولنے والے ان کو گلوری فائی کرتے رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تباہی کے واقعات مسلمانوں کی نظر میں فخر کے واقعات بن گیے۔ اس کی ایک مثال "علماءِ ہند کا شان دار ماضی نامی کتاب ہے۔ اس طرح کی تحریریں ساری دنیا میں شائع کی گئیں۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ مسلمان اپنی معکوس نتیجہ پیدا کرنے والی لڑائیوں پر نظرثانی نہ کر سکے۔ کیوں کہ فخر اور نظرثانی، دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ ۲۔ ضرورت ہے کہ ہر جگہ تمام متشددانہ کارروائیوں کو یک لخت بند کر کے تعلیم کا کام شروع کیا جائے۔ خاص طور پر ماڈرن ایجوکیشن بہت ضروری ہے۔ مسلمانوں میں جب تک ماڈرن ایجوکیشن نہ آئے، وہ جدید مسائل کو سمجھ نہیں سکتے۔ اور جب مسائل کی نوعیت ہی معلوم نہ ہو تو ان کے حل کی کامیاب منصوبہ بندی کس طرح کی جاسکتی ہے۔
۳۔ مسلمان ساری دنیا میں جہاں جہاں زمین کے لیے لڑ رہے ہیں، اب وہ اس معاملے
‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues