مسلم ایمپاورمنٹ، یا سیلف ایمپاورمنٹ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۱
ذریعے چلائی جارہی ہے۔ ایسی حالت میں کیسے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اب وہ نتیجہ خیز ہو جائے گی۔ اس معاملے میں ناکامی کسی اتفاقی سبب سے نہیں ہوئی۔ اس کا سبب صرف ایک تھا، اور وہ یہ کہ یہ مطالبا تی مہم، قانونِ فطرت کے خلاف تھی۔ اس دنیا کے لیے فطرت کا اٹل قانون یہ ہے کہ ـــــ جو دے وہ پائے، اور جو نہ دے وہ پانے سے محروم رہے۔ فطرت کا یہی اصول قرآن کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: وأما ما ينفع الناس فيمكث في الأرض (الرعد: ۱۷) یعنی جو دوسروں کے لیے نفع بخش بنتا ہے اُسی کو اس دنیا میں قیام اور استحکام حاصل ہوتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو ہدایت دیتے ہوئے فرمایا: ولا تسئلن أحداً شيئاً وإن سقط سوسطك (مسند احمد، جلد ۵، صفحہ ۱۸۱) اس حدیث کو عام طور پر فضائل صحابہ میں شمار کیا جاتا ہے حالاں کہ اس میں زندگی کا ایک قانون بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ خدا کی اس دنیا میں اگر کامیاب ہونا چاہتے ہو تو مانگنے کا مزاج اپنے اندر سے ختم کردو، اپنی ذاتی محنت کے بل پر اپنی زندگی کی تعمیر کرو۔
مسلم ایمپاورمنٹ کی بات کرنے والے لوگ دستور ہند کا حوالہ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہماری مطالبا تی مہم جائز ہے۔ کیوں کہ دستور ہند میں ملک کے شہریوں اور اقلیتوں کو جو حقوق دیے گیے ہیں، ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان حقوق کو عملاً ہمیں دے دیا جائے۔
یہ بات گریمر کے اعتبار سے صحیح ہے۔ لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ سرا سر غلط ہے۔ اس ملک کا ہر آدمی جانتا ہے کہ دستور ہند، صرف ایک لفظی گل دستہ ہے۔ بعض تکنکل دفعات کے سوا، اس میں لکھی ہوئی کوئی بات اب تک واقع نہیں بنی ـــــ دستور ہند کے مطابق ، ملک کو فیر الکشن ملنا چاہیے، لیکن اب تک ملک اس سے محروم ہے۔ دستور کے مطابق، ملک کو دیانت دار ایڈ منسٹریشن ملنا چاہیے، لیکن ملک کو صرف ایک کرپٹ ایڈ منسٹریشن ملا ہے۔ دستور ہند کے مطابق ، دستور کے نفاذ کے پندرہ سال کے اندر سارے ملک کو تعلیم یافتہ ہو جانا چاہیے تھا، لیکن اب تک یہ خواب پورا نہیں ہوا۔ دستور نے ہندی زبان کو ملک کی قومی زبان کا درجہ دیا تھا لیکن عملاً ملک کے اوپر انگریزی زبان کا راج ہے، وغیرہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues