مسلم ایمپاورمنٹ، یا سیلف ایمپاورمنٹ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۲
دستور ہند کی یہ ناکامی ایک معلوم اور مسلّم واقعہ ہے۔ ایسی حالت میں کس طرح ممکن ہے کہ دستور ہند ایک استثنائی معجزہ کے طور پر مسلمانوں کی خواہش کے مطابق ، ان کے تمام حقوق کا پارسل انھیں رجسٹر ڈ ڈاک کے ذریعہ روانہ کر دے۔
جیسا کہ معلوم ہے ، ہندوستان میں مسلمانوں کے علاوہ اور کئی اقلیتیں بستھی ہیں ۔ مثلاً عیسائی، پارسی ، سکھ اور جین وغیرہ۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ دوسری اقلیتوں کے حقوق پوری طرح محفوظ ہیں۔ عیسائی اس ملک کے تعلیمی نظام پر چھائے ہوئے ہیں۔ پارسیوں نے اس ملک میں اپنا انڈسٹریل ایمپائر بنا لیا ہے۔ سکھوں کی تعداد صرف دو فیصد ہے لیکن عملاً وہ ملک کی تقریباً بس فیصد اقتصادیات کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ جینی فرقہ اتنا زیادہ خوش حال فرقہ ہے کہ اس کو کسی سے کچھ مانگنے کی ضرورت نہیں۔ ان اقلیتوں نے یہ کامیابی خود اپنی جدوجہد کے ذریعہ حاصل کی ہے، وہ انھیں دستور کے عطیہ کے طور پر نہیں ملی۔
ان مثالوں میں ایک اور مثال شامل کر لیجیے، اور وہ خود مسلمانوں کا وہ طبقہ ہے جو مسلمانوں کی محرومی کو لے کر اپنی تحریک چلا رہا ہے، اور مسلمانوں کو ایمپاور کرنا چاہتا ہے۔ قریب سے دیکھیے تو یہ لوگ اپنی ذات کے اعتبار سے خود پوری طرح ایمپاور ہو چکے ہیں۔ ان کو وہ تمام مادی چیزیں حاصل ہیں جن کو دوسروں کے لیے فراہم کرنے کے نام پر وہ اپنی تحریکیں چلا رہے ہیں۔
ایسی حالت میں مسلم ایمپاورمنٹ کا نعرہ لگانے والوں کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کو یہ بتائیں کہ اس ملک کی دوسری اقلیتوں اور خود مسلم ایمپاورمنٹ کے لیڈروں نے کس طرح اسی ملک میں اپنے تمام مطلوب مفادات حاصل کر لیے۔ انھیں چاہیے کہ مسلمانوں کو کامیابی کا یہ راز بتائیں تاکہ وہ اس سے فائدہ اٹھا کر اپنے آپ کو کامیاب بنا سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلم ایمپاورمنٹ کا ایشو، سیلف ایمپاورمنٹ کا ایشو ہے۔ یعنی خود اپنی جدوجہد کے ذریعے اپنے آپ کو محرومی سے نکالنا اور اپنے آپ کو ترقی کے مقام تک پہنچانا۔ یہ سارا معاملہ داخلی جدوجہد کا ہے، نہ کہ خارجی مطالبات کا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues