دعوت کی تاریخ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۴۱
غیر مسلموں کے خلاف منفی ذہن پیدا ہو گیا۔ انھوں نے غیر مسلموں کے خلاف جگہ جگہ مسلح جنگ چھیڑ دی۔ پورے مسلم سماج میں غیر مسلموں کے خلاف نفرت کا ماحول پیدا ہو گیا۔ یہ نفرت یا جنگ مدعو کے خلاف تھی۔ چنانچہ اس نے مسلمانوں کی طرف سے دعوت کے عمل کا خاتمہ کر دیا۔ مدعوقوموں کے لیے مسلمانوں کے دل میں نُصح اور خیر خواہی کا جذبہ باقی نہیں رہا، وہ ان کو دشمن کی نظر سے دیکھنے لگے۔ ایسی حالت میں فطری طور پر دعوت کا کام جاری نہیں رہ سکا۔
رسول اور اصحاب رسول کے بعد مسلمان تقریباً ایک ہزار سال تک آپس میں لڑتے رہے۔ اس لمبی مدت کا کوئی بھی لمحہ ایسا نہیں ہے جب کہ مسلمان مختلف گروہوں میں بٹ کر آپس میں لڑائی نہ کر رہے ہوں۔ یہ آپس کی لڑائی بلا شبہ غلط تھی، لیکن وہ پیسیو دعوہ کے عمل کے جاری رہنے میں کوئی رکاوٹ نہ بن سکی۔
اینٹی دعوہ کا دَور جو اٹھار ہویں صدی میں شروع ہوا، وہ دعوت کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا تھا۔ باہمی لڑائیوں میں مسلمان قتل ہوتے تھے، لیکن مدعو کے خلاف لڑائی میں دعوت کا قتل عام ہونے لگا۔ اس عمل کے نتیجے میں فطری طور پر دعوت کے عمل کو سخت نقصان پہنچا۔ یہی تیسرا دور ہے جس کو ہم نے اوپر کی تقسیم میں اینٹی دعوہ کا نام دیا ہے۔
مسلمان جب تک آپس میں لڑ رہے تھے وہ خدا کی نظر میں صرف گنہ گار کی حیثیت رکھتے تھے۔ لیکن جب انھوں نے مدعوقوموں سے لڑنا شروع کیا تو وہ خدا کے غضب کا نشانہ بن گئے۔ قرآن اور حدیث کے مطابق ، وہ لعنت کے مستحق قرار پائے۔
یہ تیسرا دور بے حد خطر ناک دور ہے۔ یہی وہ دَور ہے جب کہ خدا نے مسلمانوں کو ان کے دشمنوں کے حوالے کر دیا ۔ وہ ذلّت اور تباہی کے مستحق قرار پائے۔ دوسوسال سے بھی زیادہ مدت سے مسلمانوں پر یہی دور گزر رہا ہے عزت اور سرفرازی ان سے چھین لی گئی ہے۔ خدا نے انھیں ان کے دشمنوں کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ صورتِ حال صرف اُس وقت ختم ہوگی جب کہ مسلمان اپنی مجرمانہ روش کی بھیا نک غلطی کا اعتراف کریں، وہ مدعو کے خلاف اپنی نفرت اور اپنے تشدد کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues