دعوت کی تاریخ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۴۰
دعوت کی تاریخ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل حیثیت یہ تھی کہ آپ حق کے داعی تھے۔ آپ کے بعد امتِ مسلمہ کی اصل ذمے داری بھی یہی ہے کہ وہ تمام قوموں تک اُس سچائی کو پہنچائے جو پیغمبر کے ذریعے اس کو ملی ہے۔ لیکن دعوت کا یہ کام اسلام کی تاریخ میں اپنے مطلوبہ انداز میں زیادہ نہ ہوسکا۔ دعوت کے اعتبار سے اسلام کی تاریخ کے تین دور ہیں:
ا۔ ایکٹیو دعوه (active dawah)
۲۔ پیسیو دعوه (passive dawah)
۳۔ اینٹی دعوه (antidawah)
رسول اور اصحابِ رسول کا زمانہ ایکٹیو دعوۃ کا زمانہ تھا۔ اس زمانے میں براہِ راست طور پر دعوت الی اللہ کا کام کیا گیا۔ کسی بھی سیاسی یا غیر سیاسی آمیزش کے بغیر دعوت کا کام اس کی بے آمیز صورت میں انجام دیا گیا۔ یہ دعوت کے اعتبار سے اسلام کی تاریخ میں معیاری دور تھا۔
خلافتِ راشدہ کے بعد وہ دور آگیا جب کہ دعوت کا براہِ راست کام تقریباً ختم ہوگیا۔ لیکن دعوت کا کام بالواسطہ انداز میں اب بھی پوری طرح جاری رہا۔ اب قرآن محفوظ ہو چکا تھا۔ حدیث مدوّن ہوگئی تھی۔ ایک مسلم سماج بڑے پیمانے پر بن گیا تھا۔ مسلم ادارے منظم کیے جا چکے تھے۔ عبادات کا نظام قائم ہوگیا تھا۔ اس قسم کی چیزوں کے نتیجے میں یہ ہوا کہ دعوت کا کام خود اپنے زور پر برابر جاری رہا۔ اس بعد کے زمانے میں اگر چہ مسلمان عملاً براہ راست انداز میں دعوت کی مہم نہیں چلا رہے تھے، لیکن قائم شدہ ماحول کی بنا پر بالواسطہ انداز میں اسلام کا تعارف جاری تھا، اور اس کے نتیجے میں لوگ برابر اسلام میں داخل ہو رہے تھے۔ اسی کو ہم نے پیسیو دعوہ کہا ہے۔ یہ کام مسلسل طور پر اٹھار ہوئیں صدی عیسوی تک جاری رہا۔ اس کے بعد نو آباد یاتی نظام کے ظہور کی بنا پر اس کے اوپر روک لگ گئی۔ نو آبادیاتی نظام آٹھار ہویں صدی میں مسلم دنیا میں داخل ہوا، اب مسلمانوں کے اندر
‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues