نزولِ قرآن کا مہینہ
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲
نزولِ قرآن کا مہینہ
رمضان کا مہینہ نزول قرآن کا مہینہ ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا لوگوں کی ہدایت بنا کر اور ہدایت اور حق و باطل کے درمیان امتیاز کے کھلے دلائل کے ساتھ، پس جو کوئی تم میں سے اس مہینہ میں موجود ہو وہ اس کے روزے رکھے (شہر رمضان الذی انزل فیه القرآن هدى للناس و بينات من الهدى والفرقان فمن شهد منكم الشهر فليصمه) البقره ۱۸۵ اس آیت سے رمضان میں روزہ کی سالانہ عبادت کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی قمری مہینہ میں قرآن کے نزول کا آغاز ہوا۔ قرآن جیسی الہامی کتاب کا انسان کو دیا جانا بلاشبہ انسان کے اوپر بہت بڑا انعام تھا۔ اس انعام کی شکر گزاری یہی تھی کہ اس مہینہ کو خصوصی طور پر اللہ کے ذکر اور اللہ کی عبادت میں گزارا جائے۔
یہاں قرآن کی تین خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔ اول یہ کہ وہ لوگوں کے لیے رہنمائی ہے۔ قرآن ایک خدائی گائیڈ بک ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کس طرح رہے کہ اس کو حقیقی کامیابی حاصل ہو۔
اس سلسلہ میں ایک بہت بنیادی بات یہ بتائی گئی کہ موجودہ دنیا نہ تو اہانت کی جگہ ہے اور نہ اکرام کی جگہ۔ یہاں کسی کو اگر سامان حیات کم ملے تو اس کو احساس کمتری میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح اگر کسی کو زیادہ ملے تو اس کے لیے بھی درست نہیں کہ وہ احساس برتری میں مبتلا ہو جائے ۔ یہ دنیا حقیقتاً آزمائش کا مقام ہے۔ یہاں کی ہر حالت امتحان کی حالت ہے۔ اس لیے آدمی کی نظر اس پر ہونی چاہیے کہ اس نے اپنے ملے ہوئے حالات میں کیسا رد عمل پیش کیا، نہ یہ کہ وہ دیکھنے لگے کہ خود حالات مادی معنوں میں کیسے تھے اور کیسے نہیں تھے۔
دوسری خصوصیت قرآن کی یہ ہے کہ اس میں جو ہدایت دی گئی ہے وہ ایسے واضح دلائل کے
‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues