نزولِ قرآن کا مہینہ
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳
ساتھ دی گئی ہے جو عقل انسانی کے عین مطابق ہے۔ قرآن مجرد حکم نامہ نہیں ہے، اسی کے ساتھ اس میں اعلیٰ سطح پر عقلی اطمینان کا سامان بھی موجود ہے۔
مثال کے طور پر قرآن میں قاتل کے لیے قصاص کی سزا کا حکم دیا گیا ہے۔ یعنی مجرم کے ساتھ وہی معاملہ کرنا جس کا ارتکاب اس نے دوسرے انسان کے ساتھ کیا ہے ۔ یہ حکم بظاہر سخت تھا۔ چنانچہ اس کے بعد اس کی عقلی توجیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ: ولکم فی القصاص حياة يا اولی الالباب (البقرہ ۱۷۹) یعنی ایک قاتل کو مارنا بہت سے لوگوں کو زندگی دینا ہے۔ کیوں کہ اس طرح تم پورے معاشرہ کو بچا لیتے ہو۔
قرآن کی تیسری خصوصیت یہ بتائی کہ وہ فرقان ہے۔ یعنی وہ حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والا خدائی معیار (criterion) ہے۔ وہ جھوٹ کی ملاوٹ سے پاک کر کے، سچ کو اس کے اصلی روپ میں پیش کرتا ہے۔
اس کی ایک مثال موسیٰ علیہ السلام کا ید بیضاء کا معاملہ ہے۔ بائبل میں اس کے بارہ میں یہودی عالموں نے لکھ دیا تھا کہ موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر رکھ کر اسے ڈھانک لیا۔ اور جب اس نے اسے نکال کر دیکھا تو اس کا ہاتھ کوڑھ سے برف کی مانند سفید تھا (خروج ۴:۶) یہ ایک خدائی معجزہ کی نہایت غلط تصویر تھی۔
چنانچہ قرآن میں اس کا ذکر کیا گیا تو اُس کو اس طرح واضح کر دیا گیا: واضمم يدك الى جناحك تخرج بيضاء من غير سوء آية اخرى (طہ ۲۲) قرآن میں ید بیضاء کے ساتھ غیر سوء کی قید لگا کر اس لغو الزام کو دور کر دیا گیا کہ حضرت موسیٰ کے ہاتھ کی سفیدی کسی بیماری کے سبب سے تھی بلکہ وہ آپ کی نبوت کے حق میں اللہ کی ایک عظیم نشانی تھی۔
نزول قرآن کے مہینہ میں روزہ رکھنے کا حکم دینے کا مقصد یہ ہے کہ خصوصی اہتمام کے ساتھ اس کتاب کو پکڑا جائے۔ اس مہینہ کو تمسک بالقرآن کا مہینہ بنا دیا جائے۔ روزہ دراصل یکسوئی کا ایک خصوصی طریقہ ہے ۔ روزہ کی حقیقت یہ ہے کہ تمام غیر متعلق
‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues