Al-Risala · February 2006 · page 47

الرساله مشن

الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۴۷

الرساله مشن

الرساله مشن اور میری زندگی دونوں اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ ایک کو دوسرے کے بغیر سمجھا نہیں جاسکتا۔ میری پیدائش کی تخمینی تاریخ یکم جنوری ۱۹۲۵ء ہے۔ جس صبح کو میری پیدائش ہونے والی تھی، اُس صبح کی رات کو میری ماں زَینب النساء (وفات ۱۹۸۵ء) نے ایک خواب دیکھا۔ انہوں نے دیکھا کہ میں پیدا ہوا ہوں۔ اور پھر ایک بڑا ہاتھی آیا، اِس نے اپنی سُونڈ سے اٹھا کر مجھ کو اپنی پیٹھ پر رکھا اور پھر جنگل کی طرف چلا گیا۔ یہ دیکھ کر میری ماں نے خواب میں کہا کہ دیکھو، اتنا اچھا بچہ تھا اور ہاتھی اس کو لے کر چلا گیا۔

میں اپنی زندگی کو دیکھتا ہوں تو مجھے یہ خواب بہت با معنی معلوم ہوتا ہے۔ یہ واقعہ مجھے اُس قدیم تاریخ کا اعادہ نظر آتا ہے جب کہ حضرت ابراہیم کی بیوی ہاجرہ چار ہزار سال پہلے شام کے علاقے سے اپنے چھوٹے بچے کو لے کر نکلیں اور عرب کے غیر آباد صحرا میں آکر رہنے لگیں۔ ہاجرہ کا یہ فعل اس لیے تھا کہ اُن کا بچہ اسماعیل بن ابراہیم صحرا کے غیر مُتمدّن ماحول میں پُرورش پائے۔ وہ شہری آبادی سے دور ایک ایسے ویرانے میں تربیت پا کر بڑا ہو جہاں فطرت کے سوا کوئی اور چیز اُس کے ذہن کی تشکیل کرنے والی نہ ہو۔ ابتدائی زندگی میں میرے ساتھ جو معاملہ ہوا وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایسا ہی تھا۔ میرے جدِ اعلیٰ ضیاء الدین خاں ایک افغانی تھے۔ پانچ سوسال پہلے وہ افغانستان سے نکل کر انڈیا کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں وہ بہت سے شہروں سے گزرے، مگر وہ کہیں نہیں رکے۔ آخرکار یوپی کے علاقے میں پہنچے اور اعظم گڑھ کے ایک دور افتادہ گاؤں میں مقیم ہوگئے۔ میری ابتدائی زندگی اسی دور افتادہ گاؤں میں گزری۔ یہاں تمدن جیسی کوئی چیز موجود نہ تھی۔ میرے گاؤں کے پاس ایک ندی بہتی تھی جو گویا یہ خاموش پیغام دے رہی تھی کہ زندگی ایک مسلسل حرکت کا نام ہے نہ کہ جمود کا۔ دن کے وقت سورج کی حیات بخش روشنی اور رات کو ستاروں کی مسحور کن جگمگاہٹ، کائنات کی معنویت کا تعارف کراتی تھی۔ گاؤں کے چاروں طرف پھیلے ہوئے باغ اور کھیت کی ہر یالی بتاتی تھی کہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues

Printed page