الرساله مشن
الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۳
زندگی ایک نمو پذیر حقیقت کا نام ہے۔ تازہ ہوا کے جھونکے اور چڑیوں کے چہچہانے کی آوازیں ”سمع و بصر اور فؤاد“ کے لیے مسلسل طور پر روحانی غذا کا ذریعہ بنی ہوئی تھیں۔
یہ گویا فطرت کی تعلیم گاہ تھی۔ اس تعلیم گاہ کے اندر میری شخصیت بنی۔ میرا ذوق ہر اعتبار سے فطری ذوق بن گیا۔ میری سوچ اپنے آپ وہ سوچ بن گئی جس کو آفاقیت اور حقیقت پسندی کہا جاتا ہے۔ ابتدائی دور میں میرا یہ ”صحرائی تجربہ“ غالباً وہ سب سے اہم واقعہ تھا جس نے میری شخصیت کو ایک مکمل قسم کی مثبت شخصیت بنا دیا، جو ہر قسم کے منفی تصورات سے خالی تھی۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ راقم الحروف کی اٹھائی الرسالہ تحریک دَورِ جدید کی وہ پہلی اسلامی تحریک تھی جو کسی ردِ عمل کے تحت شروع نہیں ہوئی بلکہ وہ مکمل طور پر مثبت ذہن کے تحت شروع ہوئی۔
پچھلے دو سو سال کے اندر دنیا بھر کے مسلمانوں میں بہت سی تحریکیں اٹھیں۔ ان تحریکوں کے گرد لاکھوں آدمی اکٹھا ہوئے، مگر میں سمجھتا ہوں کہ ان میں سے کوئی بھی تحریک حقیقی تحریک نہ تھی۔ اس پوری مدت میں الرسالہ تحریک پہلی تحریک ہے جس کو مثبت معنوں میں ایک تحریک کہا جا سکتا ہے۔ الرسالہ تحریک کو چھوڑ کر دوسری تمام تحریکیں ردِ عمل کی تحریکیں تھیں۔ مثلاً انگریزوں نے مغل سلطنت کا خاتمہ کیا تو تحریکِ آزادی اُٹھ کھڑی ہوئی۔ کمال اتا ترک (وفات: ۱۹۳۸) نے خلافت کے خاتمے کا اعلان کیا تو اس کے احیاء کے نام پر خلافت تحریک کھڑی ہوئی۔ مغربی تہذیب کے مفروضہ یلغار کا مسئلہ پیدا ہوا تو اس سے مقابلہ کرنے کی تحریک اٹھ کھڑی ہوئی۔ فلسطین میں یہودیوں نے داخل ہو کر اسرائیل کی حکومت قائم کر دی تو اس کے جواب میں پُر شور تحریک شروع ہو گئی۔ اسی طرح کشمیر، بوسنیا، چیچنیا، فلپائن، آراکان وغیرہ میں لوگوں کو مفروضہ دشمن کی طرف سے خطرہ نظر آیا تو ہر جگہ جوابی تحریک کا طوفان بر پا ہو گیا۔ اسی طرح ہندوؤں کی طرف سے شُدھی کی اسکیم، عیسائیوں کی طرف سے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کا منصوبہ، جیسے واقعات نے کچھ مسلم بزرگوں میں جوش پیدا کیا اور انہوں نے ان کی روک تھام کے لیے تحریک شروع کر دی۔
ردِ عمل کی تحریکوں کے اس ہجوم میں الرسالہ تحریک واحد تحریک ہے جو خالص مثبت ذہن کے
‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues