Al-Risala · November 2006 · page 8

زندگی کا مقصد

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۸

کے لیے ساری عمر محنت کیا۔ بظاہر انھوں نے بڑی بڑی کامیابی حاصل کی۔ مگر ہر ایک اس حسرت کے ساتھ مرا کہ وہ اپنی خواہشوں کی تکمیل نہ کر سکا۔ آج کی دنیا میں وہ جس خوشی کو پانا چاہتا تھا اس کو پانے میں وہ ناکام رہا۔

دنیا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں جوڑاا (pair) کا اصول قائم ہے۔ یہاں ہر چیز اپنا جوڑا رکھتی ہے۔ ہر چیز اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر اپنے وجود کی تکمیل کرتی ہے۔ یہ اصول عالمی سطح پر قائم ہے۔ زمین سے لے کر اسپیس تک ہر جگہ یہی نظام رائج ہے۔ نگیٹیو پارٹیکل کا جوڑ آپازیٹیو پارٹیکل، نباتات میں میل سیکس اور فی میل سیکس، حیوانات میں مونث حیوان اور مذکر حیوان، انسان میں عورت اور مرد، وغیرہ۔

جوڑ یا زوجین کا نظام تمام مخلوق میں عالمی سطح پر قائم ہے۔ اس وسیع اور کامل نظام میں صرف ایک استثناء ہے اور وہ انسانی خواہشات کا ہے۔ ہر انسان خواہشات کا گہرا احساس لے کر پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ہر انسان اپنی ان خواہشات کی تکمیل کیے بغیر مر جاتا ہے۔ دنیا میں خواہش ہے مگر اس کا جوڑا، تکمیل خواہش یہاں موجود نہیں۔

یہ سوال اس دنیا میں آنے والے ہر عورت اور مرد کا سوال ہے۔ ہر پیدا ہونے والا اس سوال کا جواب معلوم کرنا چاہتا ہے مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنے سوال کا تشفی بخش جواب پائے وہ حسرت کے ساتھ اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔

امریکی مشنری بلی گراہم (Billy Graham) نے لکھا ہے کہ ایک بار اس کے پاس امریکا کے ایک عمر رسیدہ دولت مند کا ارجنٹ مسیح آیا۔ بلی گراہہم اپنے پروگرام کو ملتوی کر کے فورا روانہ ہو گیے۔ وہ امریکی دولت مند کے گھر پہنچا تو اس کو ایک کمرے میں لے جایا گیا۔ وہاں اس کی ملاقات امریکی دولت مند سے ہوئی۔ امریکی دولت مند نے کسی تمہید کے بغیر کہا:

You see, I am an old man. Life has lost all meaning. I am going to take a fateful leap into the unknown. Young man can you give me a ray of hope.

‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues

Printed page