Al-Risala · November 2006 · page 9

زندگی کا مقصد

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۹

بلی گراہم کے پاس اس سوال کا کوئی تشفی بخش جواب نہ تھا۔ امریکی دولت مند جواب سے محرومی کا احساس لے کر مر گیا۔ خود بلی گراہم کا یہ حال ہوا کہ تازہ اطلاع کے مطابق، وہ شدید حادثے کا شکار ہو کر معذوری کی حالت میں بستر پر پڑا ہوا ہے، اور اپنے آخری انجام کے طور پر موت کا انتظار کر رہا ہے۔

یہی معاملہ اس دنیا میں ہر عورت اور مرد کا ہے۔ ہر ایک اپنی زندگی کا مقصد جاننا چاہتا ہے۔ ہر ایک، ایک پر مسرت زندگی کی تلاش میں ہے۔ ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اس کو ایسی زندگی ملے جس میں اس کو پوری طرح فل فلمینٹ (fulfillment) حاصل ہو۔ مگر ہر ایک کا انجام صرف ناکامی پر ختم ہو رہا ہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ ہر عورت اور مرد نے یہ سمجھا کہ دنیا کے مادی ساز و سامان ہی اصل ہیں۔ ہر ایک نے مادی ساز و سامان اکٹھا کر کے اس کے ذریعے فل فلمینٹ کی زندگی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ مگر کسی استثنا کے بغیر ایک شخص کو بھی مطلوب فل فلمینٹ حاصل نہ ہو سکا۔

ایسی حالت میں اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اس ناکام تجربے کو دہرایا جاتا رہے۔ اب اس معاملے میں اصل مسئلہ نظرثانی (reassessment) کا ہے۔ اب اصل کام یہ ہے کہ سنجیدگی کے ساتھ یہ سوچا جائے کہ دنیا کی قابل حصول مادی چیزوں میں تو ثابت شدہ طور پر فل فلمینٹ کا سامان موجود نہیں۔ ایسی حالت میں پھر یہ سامان کہاں ہے۔ جب انسانی خواہش کا تسلسل جاری ہے تو یہ ماننا ہو گا کہ وہ ایک حقیقی چیز ہے، اور جب وہ ایک حقیقی چیز ہے تو یقیناً اس کی تکمیل کا سامان بھی کائنات میں ہونا چاہیے۔

اس معاملے کو سفر کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ کوئی شخص جب سفر کرتا ہے، خواہ وہ ٹرین سے سفر کرے یا ہوائی جہاز سے، اس کے سفر کے دو مرحلے ہوتے ہیں۔ ایک، وہ جب کہ وہ حالتِ سفر میں ہوتا ہے۔ دوسرا وہ جب کہ وہ اپنی منزل پر پہنچ جاتا ہے۔ کامیاب سفر کے لیے ضروری ہے کہ مسافر دونوں حالتوں کے فرق کو سمجھے۔ جو مسافر اس فرق کو نہ جانے وہ ذہنی تناؤ کا شکار ہو جائے گا اور غیر ضروری پریشانی میں مبتلا ہو کر اپنی عقل کھو بیٹھے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues

Printed page