زندگی کا مقصد
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۱
پڑارہے۔ کیوں کہ کوئی بھی حقیقت اس طرح علم میں نہیں آتی کہ وہ پہاڑ کی طرح مشہود چیز کے طور پر سامنے آجائے۔
اس کے بجائے جو ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ مطالعے کے دوران سائنس داں کے سامنے ایک سُراغ (clue) آتا ہے۔ اس سُراغ پر غور کر کے وہ ایک ایسی حقیقت تک پہنچتا ہے جو پہلے اس کو معلوم نہ تھی۔ اس دنیا میں ہر حقیقت سُراغ کی سطح پر دریافت ہوتی ہے۔ اس دنیا میں سُراغ ہی تمام حقیقتوں کی دریافت کی کنجی ہے۔
مثلاً سائنس میں اس کو بطور حقیقت مان لیا گیا ہے کہ تیرہ بلین سال پہلے بگ بیگ کا واقعہ پیش آیا۔ اسی طرح سائنس میں یہ مان لیا گیا ہے کہ زمین پر حیاتیاتی ارتقا کا واقعہ ہوا۔ اسی طرح سائنس میں یہ مان لیا گیا ہے کہ ہماری کائنات ایک پھیلتی ہوئی کائنات (expanding universe) ہے، وغیرہ۔
اس قسم کی حقیقتیں جو آج مسلم حقیقت بن چکی ہیں وہ اس طرح حقیقت نہیں بنیں کہ انسان نے اس کو مشاہداتی سطح پر دیکھ لیا۔ اس کے بجائے جو کچھ ہوا وہ صرف یہ تھا کہ ایک سُراغ انسان کے علم میں آیا۔ پھر اس سُراغ پر غور کر کے انسانی علم ایک بڑی حقیقت تک پہنچا۔ یہ بڑی حقیقت اگرچہ دکھائی نہیں دے رہی تھی مگر وہ موجود تھی۔ اس کی موجودگی کو بطور ایک واقعہ کے تسلیم کر لیا گیا۔ اگر چہ اس سلسلے میں سُراغ کے سوا کوئی اور چیز انسان کے مشاہدے میں نہیں آئی تھی۔
یہی معاملہ موت کے بعد زندگی کا یا اگلے دَورِ حیات کا ہے۔ اگلے دَورِ حیات کے بارے میں بھی واضح سُراغ (clue) موجود ہیں۔ سُراغ پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے تو وہ ہمیں اس یقین تک پہنچاتے ہیں کہ موت کے بعد بھی زندگی ہے۔ موت کے بعد بھی اسی طرح ایک اور مرحلہ حیات ہے جو لازمی طور پر ہر ایک کے سامنے پیش آئے گا۔
وہ سُراغ کیا ہے۔ مثلاً انسان کا جسم بے شمار خلیوں (cells) پر مبنی ہے۔ یہ خلیے ہر وقت ٹوٹتے رہتے ہیں۔ دوسری طرف ہمارا نظامِ ہضم یہ کام کرتا ہے کہ جو کچھ ہم کھاتے ہیں وہ خلیوں کی صورت میں ہمارے جسم کو ملتا رہتا ہے۔ یہ عمل موت تک جاری رہتا ہے۔ خلیوں کے ٹوٹنے اور بننے کا یہ سلسلہ مسلسل جاری رہتا ہے مگر پورا جسم قائم رہتا ہے۔ موت انسان کے ساتھ یہ کرتی ہے کہ وہ خلیوں کے ٹوٹنے کا عمل جاری رکھتی ہے مگر نئے خلیے بنانے کا عمل بند کر دیتی ہے۔ جس کی وجہ سے جسم کے اجزا بکھر جاتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا سُراغ ہے جو ایک دوسری دنیا کی موجودگی کو ثابت کرتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues