زندگی کا مقصد
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۲
اختیار کر لیتا ہے۔ ہمارا نظامِ ہضم گویا خلیہ ساز فیکٹری ہے۔ اس نظام کے تحت یہ ہوتا ہے کہ عملاً تقریباً ہر دس سال میں ہمارا پورا جسم بدل جاتا ہے۔ نئے خلیوں کے ساتھ مکمل طور پر ایک نیا جسم وجود میں آ جاتا ہے۔ گویا کہ ہمارے جسم پر بار بار’’موت‘‘ طاری رہتی ہے۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کا ذہنی وجود نہیں مرا۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ذہنی وجود ہی انسان کا اصل وجود ہے۔ یہ ذہنی وجود بظاہر جسمانی موت کے باوجود یکساں طور پر باقی رہتا ہے۔ یہ ایک سراغ ہے جو بتاتا ہے کہ انسان اپنی اصل کے اعتبار سے ایک ابدی مخلوق ہے۔ اس کے ابدی وجود کا تھوڑا سا حصہ قبل از موت مرحلۂ حیات میں ہے، اور اس کا بقیہ پورا حصہ بعد از موت مرحلۂ حیات میں۔
اسی طرح اس معاملے کا ایک سراغ یہ ہے کہ انسان کے اندر استثنائی طور پر عدل (justice) کا تصور پایا جاتا ہے۔ انسان اپنے فطری ذہن کے تحت، یہ چاہتا ہے کہ دنیا میں عدل قائم ہو۔ یعنی اچھا عمل کرنے والوں کو اچھا انجام ملے اور بُرا عمل کرنے والوں کو بُرا انجام ملے۔ اس سراغ کو سامنے رکھ کر سوچا جائے تو انسانی ذہن اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ موجودہ مرحلۂ حیات چوں کہ اپنی مدت کے اعتبار سے نہایت نا کافی ہے اس لیے بعد کے مرحلۂ حیات میں عدل کے تقاضے کی تکمیل ہو۔ بعد کے مرحلۂ حیات میں ہر انسان کو اس کے کیے کے مطابق، جزا یا سزا ملے۔
اسی طرح اس معاملے کا ایک سراغ یہ ہے کہ انسان پیدائشی طور پر معیاری دنیا (perfect world) چاہتا ہے۔ مگر موجودہ دنیا کی محدودیت (limitations) کی بنا پر یہاں مطلوب معیاری دنیا بن نہیں پاتی۔ اس سراغ پر غور کرتے ہوئے انسانی ذہن اس دریافت تک پہنچتا ہے کہ جو معیاری دنیا قبل از موت مرحلۂ حیات میں محدود حالات کی بنا پر حاصل نہ ہو سکی وہ بعد از موت مرحلۂ حیات میں اپنی مطلوب معیاری صورت میں حاصل ہوگی۔
اسی طرح اس معاملے میں ایک سراغ یہ ہے کہ انسان استثنائی طور پر ایک ایسی مخلوق ہے جو کل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ کسی بھی دوسرے حیوان یا غیر حیوان کے اندر کل کا تصور موجود نہیں۔ اس سراغ کو لے کر غور کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ موجودہ محدود حالات میں آدمی اپنی جس
‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues