A Study of History, by Arnold Joseph Toynbee
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۵
خود دفاعی پوزیشن میں محسوس کرتا ہے اس لیے اس کے اندر یہ جذبہ ابھرتا ہے کہ وہ اپنے حریف اکثریتی گروہ سے زیادہ محنت کرے ۔ اس کو محسوس ہوتا ہے کہ زیادہ محنت کر کے ہی وہ اپنے بقا (survival) کا انتظام کر سکتا ہے۔ دوسری طرف اکثریتی گروہ کے اندر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ وہ عددی اعتبار سے فریق ثانی کے مقابلے میں برتر ہے اس لیے اس کا مستقبل محفوظ ہے۔ اس کو کسی کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں۔ اس بے جا خود اعتمادی کی بنیاد پر اکثریتی گروہ کے اندر عمل کا جذبہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ تمام حالات میری موافقت میں ہیں، میں کم عمل کر کے بھی زیادہ فائدہ حاصل کر سکتا ہوں۔ دونوں گروہوں کے درمیان اس فرق کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دونوں کے اندر خاموشی کے ساتھ دو مختلف عمل شروع ہو جاتا ہے۔ یہ دوطرفہ عمل ایک گروہ کے لیے ترقی کا ضامن بن جاتا ہے، اور دوسرے گروہ کے لیے تنزلی کا ضامن۔ فطرت کے قانون کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ اقلیتی گروہ دن بدن تخلیقی اقلیت (creative minority) بننے لگتی ہے۔ اس کے برعکس، اکثریتی گروہ دن بدن غیر تخلیقی اکثریت (uncreative majority) بننے لگتی ہے۔ یہ عمل بلا اعلان خاموشی کے ساتھ جاری رہتا ہے یہاں تک کہ وہ واقعہ پیش آتا ہے جس کو قرآن کی مذکورہ آیت میں اکثریتی گروہ پر اقلیتی گروہ کے غلبے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
قرآن کے مطابق، فطرت کا یہ قانون جس بنیادی اصول پر مبنی ہے وہ صبر (patience) ہے۔ صبر کوئی پسپائی نہیں، بلکہ وہ قانون فطرت سے ہم آہنگی اور منصوبہ بند عمل کا نام ہے۔ مذکورہ صورت حال میں ایسا ہوتا ہے کہ اکثریتی گروہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کو صبر کی ضرورت نہیں۔ اس کی عددی برتری اس کے لیے ہر چیز کا بدل ہے۔ لیکن اقلیتی گروہ کے افراد کے اندر اس سے مختلف سوچ بنتی ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر محسوس کرتے ہیں کہ موجودہ حالات میں ان کے لیے صرف ایک انتخاب ہے اور وہ صبر ہے۔ اس طرح اقلیتی گروہ کے لیے صبر ایک جبری انتخاب (compulsive choice) بن جاتا ہے۔ اس طرح حالات کا دباؤ اقلیتی طبقہ کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ہر معاملے میں صبر کی پالیسی اختیار کرے ۔ بظاہر اگر چہ وہ صبر کی روش کو ایک مجبوری کے تحت اختیار کرتا ہے لیکن صبر فطرت کا ایک عمومی
‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues