Al-Risala · November 2006 · page 14

قانون حیات

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۴

قانون حیات

قرآن کی سورہ نمبر دو میں زندگی کا ایک قانون ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: كم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة باذن الله والله مع الصابرين۔ یعنی کتنے ہی چھوٹے گروہ بڑے گروہ پر غالب آئے ہیں، اللہ کے اذن سے، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرہ: ۲۴۹) قرآن کی اس آیت میں اذن سے مراد فطرت کا قانون (law of nature) ہے۔ یہ قانون، خالق فطرت نے قائم کیا ہے۔ اس لیے اس کی حیثیت ایک حتمی قانون کی ہے۔ اس کو بدلنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ یہ قانون اُسی طرح عمل کرتا ہے جس طرح رات کے بعد دن کا آنا، اور دن کے بعد رات کا آنا۔ فطرت کا یہ قانون تاریخ میں بار بار واقع ہوا ہے۔ بار بار ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ ایک کثیر گروہ پر غالب آیا ہے۔ مثلاً دورِ اول میں مکہ کے مسلمان جو مقابلہً قلیل تعداد میں تھے وہ اپنے حریف پر غالب آئے جو مقابلہً ان سے بہت زیادہ تھے۔ اِسی طرح موجودہ زمانے میں امریکا میں وہاں کے تارکین وطن (emigrants) وہاں کے مقامی باشندوں کے مقابلے میں زیادہ ترقی کر رہے ہیں۔ حالاں کہ تارکین وطن کم ہیں اور مقامی باشندے تعداد میں ان سے زیادہ ہیں، وغیرہ۔ اس تاریخی ظاہرہ (phenomenon) پر موجودہ زمانے میں کافی مطالعہ کیا گیا ہے، اور واقعات کو لے کر اصول اخذ کیے گئے ہیں۔ اس موضوع پر چھپنے والی کتابوں میں سے ایک کتاب وہ ہے جو برطانی مورخ ٹائن بی (وفات : ۱۹۵۲) نے طویل مطالعے کے بعد تیار کی ہے۔ اس کا نام تاریخ کا مطالعہ ہے:

A Study of History, by Arnold Joseph Toynbee

اس تاریخی مطالعے کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ جب بھی کسی علاقے میں ایسا ہوتا ہے کہ وہاں دوگروہ ہوں۔ ایک تعداد میں کم ہو اور دوسرا تعداد میں زیادہ ہو۔ ایسے مقام پر خود فطری اسباب کے تحت، دونوں گروہوں کے درمیان دو مختلف قسم کا عمل (process) جاری ہو جاتا ہے۔ اقلیتی گروہ اپنے

‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues

Printed page