Al-Risala · November 2006 · page 18

قرآن اور امنِ عالم

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۸

عوامی مظاہروں اور سول نافرمانی (civil disobedience) جیسے انتہا پسندانہ طریقوں کو اپنے مقصد کے لیے بھر پور طور پر استعمال کیا۔ اس طریق کار کا منفی نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان سے انگریزوں کا سیاسی اقتدار تو ختم ہوا لیکن اسی کے ساتھ ملک میں نزاع کا دور دورہ ہو گیا۔ قانون شکنی کا مزاج عام ہو گیا۔ اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم کی روایات ٹوٹ گئیں ، وغیرہ۔ چنانچہ ۱۹۴۷ میں جو آزاد ہندوستان بنا، وہ ایک ایسا ملک تھا جو امریکی پروفیسر گال بر یتھ کے الفاظ میں حقیقی جمہوریت سے زیادہ ایک فنکشننگ انارکی (functioning anarchy) کے ہم معنی تھا۔

اصل یہ ہے کہ امن کے قیام کے لیے سب سے پہلے امن کا ایک قابل عمل فارمولا درکار ہے۔ ایک ایسا فارمولا جو لوگوں کی آزادی کو منسوخ کیے بغیر زیر عمل لایا جا سکے ۔ جو موجودہ روایات کو توڑے بغیر امن کی حالت قائم کرے ۔ جس کے ذریعے سماج میں کوئی نیا بگاڑ لائے بغیر امن کا حصول ممکن ہو سکے۔ امن کے لیے اس قسم کا فارمولا پہلی بار قرآن میں پیش کیا گیا، اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو زیر عمل لا کر اس کا ایک باقاعدہ نمونہ تاریخ میں قائم کر دیا۔

پیکس رومانا، اور پیکس امریکانا کو اگر سیاسی امن کہا جائے تو قرآن کے اصول امن کو اصلاحی امن کا نام دینا درست ہوگا۔ قرآن کا امن فارمولا اس بات کو ممکن بناتا ہے کہ جبر اور بگاڑ جیسی کوئی خرابی پیدا کیے بغیر امن کی حالت قائم کی جاسکے ، یعنی وہ حالت جس میں قسم کی تعمیری سرگرمیاں قابل عمل ہو جائیں۔ قرآن کے اس امن فارمولے کو بتانے کے لیے میں نے اپنی کتاب اسلام ری ڈسکورڈ (Islam Rediscovered) میں ایک اصطلاح استعمال کی ہے۔ یہ اصطلاح پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم (positive statusquoism) ہے۔ یعنی حالت موجودہ سے ٹکراؤ نہ کرنا، اور اس کے ہوتے ہوئے عین اُسی وقت جوامکانات (opportunities) پائے جارہے ہیں، ان کو اپنے حق میں استعمال کرنا۔ یہ ایک کامیاب فارمولا ہے جس کو قرآن میں انّ مع العسر یسرا کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی مسائل کے ساتھ ہمیشہ مواقع بھی موجود رہتے ہیں، اس لیے مسائل کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو: Ignore the problems, avail the opportunities.

‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues

Printed page