Al-Risala · November 2006 · page 19

قرآن اور امنِ عالم

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۹

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم انسانی تاریخ کے پہلے شخص ہیں جنھوں نے حقیقی معنوں میں امن کا سماج قائم کیا۔ اس سماج کے قیام میں پوری طرح مذکورہ قرآنی فارمولے کو استعمال کیا گیا تھا۔ پیغمبر اسلام کی زندگی گویا کہ امن کے اس قرآنی فارمولے کی ایک عملی تفسیر ہے۔ آپ کی زندگی کے مطالعے سے ہم جان سکتے ہیں کہ یہ قرآنی فارمولا کس طرح زیر عمل لایا جاسکتا ہے۔

جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قدیم مکہ میں ۶۱۰ عیسوی میں اپنی دعوت توحید کا آغاز کیا۔ اُس وقت مکہ میں آپ کے لیے ایک سنگین مسئلہ تھا۔ آپ کا مشن یہ تھا کہ آپ کعبہ کو دوبارہ توحید کے عالمی مرکز کی حیثیت سے بحال کریں۔ مگر عملی صورت حال یہ تھی کہ کعبہ میں تین سو ساٹھ بُت رکھے ہوئے تھے۔ اگر آپ ایسا کرتے کہ ”بت شکنی“ سے اپنے کام کا آغاز کرتے تو اس کا انجام یہ ہوتا کہ آپ کی بُت شکنی عملاً امن شکنی کے ہم معنی بن جاتی۔ اس قسم کی کوشش کے نتیجے میں جو چیز ظہور میں آتی وہ سماجی فساد ہوتا نہ کہ سماجی امن۔ آپ نے قرآنی حکمت کے مطابق، اس معاملے میں ڈی لنکنگ پالیسی (de-linking policy) اختیار کی۔ یعنی بُت کی موجودگی کے مسئلے کو بر وقت نظر انداز کرنا، اور بُتوں کے باوجود آپ کے لیے وہاں کام کے جو مواقع موجود ہیں، اُن کو استعمال کرنا۔ کعبہ کے تین سو ساٹھ بت دراصل مختلف عرب قبائل میں پوجے جانے والے بت تھے۔

چنانچہ ان قبائل کے افراد اپنے بتوں کی زیارت کے لیے برابر وہاں آتے رہتے تھے۔ اسی طرح خود اہلِ مکہ کے لیے بھی کعبہ ایک مرکزِ اجتماع بنا ہوا تھا۔ جہاں وہ روزانہ اکٹھا ہوتے اور اپنے رواج کے مطابق، وہاں اپنے مذہبی مراسم ادا کرتے۔ اس طرح کعبہ فطری طور پر ایک مقامِ اجتماع بن گیا۔ کعبہ میں رکھے ہوئے بُت بظاہر پیغمبر اسلام کے لیے ایک مسئلہ تھے، لیکن کعبہ کے صحن میں لوگوں کے اجتماع نے اس مقام کو گویا کہ عربوں کی نیشنل اسمبلی کا درجہ دے دیا تھا۔ آپ نے کعبہ کے اس دوگانہ پہلو کو سمجھا، اور بصیرتِ قرآنی سے کام لیتے ہوئے یہ کیا کہ آپ نے بُتوں کی موجودگی کو وقتی طور پر نظر انداز کیا، اور انسانوں کی موجودگی کو اپنی دعوت کے لیے مقامِ خطاب کے طور پر استعمال کیا۔ چنانچہ آپ پر امن طور پر وہاں جاتے اور لوگوں کو قرآن کے حصے پڑھ کر سناتے۔ اس طرح قرآن کا

‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues

Printed page