Off with Silver Spoon
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۲
جو لوگ دولت سے محروم ہیں، وہ دولت کو ایک نعمت سمجھتے ہیں، لیکن جب کوئی شخص دولت کو پالِیتا ہے تو دولت کا تجربہ اس کے پچھلے احساس کو بدل دیتا ہے۔ اب اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اگر بے دولت ہونا ایک مسئلہ ہے تو دولت مند بننا بھی ایک مسئلہ ہے، بلکہ شاید شدید تر مسئلہ۔ ایک شخص جو ابتدا میں غریب تھا، بعد کو اس کے پاس کافی دولت آگئی۔ اس کے ماضی کے ایک دوست نے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ جب سے تمھارے پاس دولت آئی ہے، تم کافی بدل گئے ہو۔ دولت مند آدمی نے اپنے دوست سے کہا— میرے اوپر دولت کی بجلی گری ہے، یہی میرا مسئلہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر دولت ملنے سے پہلے آدمی کو اس کا تجربہ ہو جائے تو کبھی کوئی شخص دولت کی تمنا نہ کرے۔ وہ دولت کا حریص بننے کے بجائے قناعت کی زندگی کو اپنے لیے بہتر سمجھے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کی اسلامی انقلاب کی تحریک بیسویں صدی کے نصف اول میں شروع ہوئی اور صدی کے آخر تک پورے برصغیر ہند میں پھیل گئی۔ علماء اسلام کی طرف سے اس تحریک پر مثبت اور منفی دونوں قسم کے رد عمل سامنے آئے۔ زیر نظر کتاب میں اس تحریک کا اور اس کے بانی کی شخصیت کا علمی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس موضوع پر یہ کتاب ایک جامع مطالعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
مولانا مودودی شخصیت اور تحریک، ایک علمی جائزہ ڈاکٹر فریدہ خانم
‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues