مسلمان مسئلہ کیوں بن گئے
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۳
مسلمان مسئلہ کیوں بن گئے
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی جو حدیثیں محفوظ حالت میں ہم تک پہنچی ہیں اُن میں سے کچھ حدیثیں وہ ہیں جن میں آپ نے اپنی امت کو مستقبل کے کچھ فتنوں سے پیشگی طور پر خبردار کیا ہے۔ اس قسم کی حدیثوں میں سے ایک حدیث وہ ہے جس میں آپ نے فرمایا: واذا وضع السيف فى امتی لم يرفع منها إلى يوم القيامة (ابوداؤد، كتاب الفتن، الترمذى، كتاب الفتن، ابن ماجه، كتاب الفتن ، مسند احمد) یعنی میری امت کے اندر جب تلوار داخل ہوگی تو اس کے بعد وہ قیامت تک اُس سے اٹھائی نہ جائے گی۔
سیف (تلوار) تشدد کی علامت ہے۔ اس قولِ رسول کا مطلب یہ ہے کہ امت مسلمہ کے اندر جب ایک بار متشددانہ طریقہ داخل کر دیا جائے تو پھر وہ نسل در نسل جاری رہے گا۔ حتی کہ اگر اس رجحان کو بدلنے کی خصوصی کوشش نہ کی گئی تو عین ممکن ہے کہ وہ برابر امت کے اندر جاری رہے، یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ مسلمانوں کی تاریخ کو دیکھا جائے تو پیغمبر اسلام کی پیشین گوئی بالکل لفظی طور پر درست ثابت ہوتی ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے، خلیفہ ثالث عثمان بن عفان کے آخری زمانہ میں سیف، بالفاظ دیگر، متشددانہ طریق کار امت مسلمہ کے اندر داخل ہوا، اس کے بعد پھر وہ کبھی ختم نہ ہوسکا۔ اس وقت سے لے کر آج تک پوری امت کا یہ حال ہے کہ اُس کے کچھ افراد اگر عملی تشدد میں مشغول ہیں تو اس کے کچھ افراد فکری تشدد میں۔ کچھ لوگ اگر اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف گن اٹھائے ہوئے ہیں تو دوسرے لوگ براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس کی تصدیق اور تبرير کرنے میں مشغول ہیں۔ اصل یہ ہے کہ چودہ سو سال پہلے جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی، اُس وقت عرب میں اور ساری دنیا میں مذہبی ایذا رسانی (religious persecution) کا زمانہ تھا۔ مروجہ مذہب کے لوگ جب بھی دیکھتے کہ کوئی فرد یا گروہ اُن سے الگ کوئی مذہب اختیار کر رہا ہے تو وہ اُس کے سخت
‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues