Every human being is potentially Muslim.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۱
فراریت کے درجہ میں رہے، وہ اسلام کی مین اسٹریم کے نمائندہ نہ بن سکے۔ قرآن کے مطابق، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قتال سے مراد متشددانہ طریقہ کار ہے اور جہاد سے مراد پر امن طریقہ کار۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ جہاد کو قتال کے معنی میں استعمال کیا جانے لگا۔ اس طرح جہاد کے حوالہ سے پرامن طریقہ کار کا تصور تاریخ سے عملی طور پر حذف ہو گیا۔
موجودہ دنیا مسابقت کے اصول پر چل رہی ہے۔ یہاں ہمیشہ ایک اور دوسرے کے درمیان نزاع کی صورت پیدا ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں آدمی کے لیے صرف دو ممکن انتخاب ہے۔ ایک، حالت موجودہ (status quo) کو مان لینا۔ اور دوسرے، اگر وہ ماننا نہیں چاہتا تو دوسری صورت یہ ہے کہ مکمل طور پر پرامن دائرہ میں رہتے ہوئے اپنی جدوجہد کو جاری کرنا۔ ان دو کے سوا جو صورت ہے وہ صرف مزید تباہی کی صورتیں ہیں، وہ یقینی طور پر کامیابی کی صورت نہیں۔ آج سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ جہاد بالقرآن کے اصول کو عام کیا جائے۔ یعنی اسلام کو ایک پرامن آئیڈیالوجی کے طور پر دنیا کے سامنے لایا جائے۔ مسلمانوں کو بتایا جائے کہ اسلام کا نشانہ اقتدار نہیں ہے، بلکہ دعوت ہے۔ اسلام میں دشمن سے لڑنا نہیں ہے بلکہ دشمن کو اپنا دوست بنانا ہے۔ اس مقصد کا تقاضا ہے کہ ایک طرف صبر کے ذریعہ مسلمانوں اور غیرمسلموں، بالفاظ دیگر، داعی اور مدعو کے درمیان معتدل فضا قائم کی جائے۔ اور دوسری طرف پرامن دعوتی عمل کو لوگوں کے درمیان مؤثر طور پر چلایا جائے۔
ممبئی میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہنامہ الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں۔ ٹیلی فون پر آرڈر دے کر بھی کتابیں منگوائی جاسکتی ہیں : ICRA (Islamic Centre for Research & Awareness)
3, Shantaram Patil Bldg. behind Firdaus Mithaiwala, Near Andheri Station (W), Mumbai-400058 Tel. 26285223, Mob. 9821197534
‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues