Al-Risala · November 2006 · page 30

Every human being is potentially Muslim.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۰

فتنے کی حالت نئے عنوان کے ساتھ دوبارہ تاریخ میں واپس آجائے۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز کو پانچواں خلیفہ راشد کہا جاتا ہے۔ اُن کے زمانے میں عمومی طور پر امن کی حالت قائم ہوگئی تھی۔ چنانچہ غیر مسلم قومیں کثرت سے اسلام میں داخل ہونے لگیں۔ اُس وقت اُن کے ایک گورنر نے کہا کہ اسلام کی یہ توسیع اگر اسی طرح جاری رہی تو خراج کی رقم بہت کم ہو جائے گی اور ہمارا بیت المال خالی ہو جائے گا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جواب دیا: ويســــحك ان محمداً بعث هادياً ولم يبعث جابياً۔

اس سلسلہ میں سب سے زیادہ تباہ کن کردار موجودہ زمانہ کے نام نہاد انقلابی مفکرین نے ادا کیا ہے۔ اُنھوں نے اسلام کی خود ساختہ تشریح کر کے مسلمانوں کو بتایا کہ اسلام ایک مکمل سیاسی نظام ہے۔ اور اس مکمل سیاسی نظام کو عملاً نافذ کیے بغیر اُن کے اسلام کی تکمیل نہیں ہوگی۔ یہ غلط تشریح بعض اسباب سے ساری دنیا میں پھیل گئی۔ اب مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ مجنونانہ طور پر ساری دنیا سے لڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے ہیں۔ اُن کے درمیان ایسے انتہا پسند علماء پیدا ہو گئے ہیں جو اس معاملہ میں خود کش بم باری کو استشہاد (طلب شہادت) قرار دے رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ مفروضہ دشمن کو مارنے کے لیے تم خودکش بم باری کی حد تک جا سکتے ہو اور اس طرح اپنی جنت کو یقینی بنا سکتے ہو۔ قرآن میں جہاد کا لفظ پر امن جد و جہد کے معنی میں ہے۔ بعض اوقات جہاد کے لفظ کو توسعی معنی میں قتال یا پر تشدد طریق کار کے لیے استعمال کیا گیا۔ مگر بعد کے زمانہ میں جہاد کو عملاً قتال کا ہم معنی بنا دیا گیا اور اُس کو عملی طور پر پر تشدد طریق کار کے معنی میں استعمال کیا جانے لگا، جو کہ بلا شبہہ غلط تھا۔

صوفیا اسلام کے اسی پر امن طریق کار کے نمائندے تھے۔ اُنھوں نے ساری دنیا میں بڑے بڑے دعوتی کام کئے ۔ مگر پوری تاریخ میں جہاد (بمعنی قتال) کا تصور اتنا غالب تھا کہ صوفیاء کے طریقہ کو فراریت (escapism) کے ہم معنی سمجھا گیا۔ صوفیاء کے لیے یہ ممکن نہ ہوا کہ وہ پر امن طریق کار کو ایک مکمل آئیڈیا لوجی کے طور پر مدلّل اور مفصل کر کے پیش کریں۔ اس لیے علمی اعتبار سے صوفیاء

‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues

Printed page