Al-Risala · November 2006 · page 39

انسانی اتحاد

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۹

معاملہ میں بھی اسی اصول کو اختیار کر لیا جائے ۔

انسانی اتحاد کا اوّل الذکر فارمولا بظاہر اپنے اندر ایک سماجی قدر (social value) رکھتا ہے مگر بالفرض وہ حاصل ہو جائے تب بھی وہ ایک اور عظیم تر چیز کی نفی کی قیمت پر حاصل ہوگا، اور وہ سچائی ہے۔ ہر انسان کی یہ فطری اور لازمی ضرورت ہے کہ اس کو یہ یقین ہو کہ میں نے سچائی کو پالیا ہے، میں سچائی پر کھڑا ہوا ہوں ۔ یہ کسی فرد کے لیے اس کا اعلیٰ ترین اثاثہ ہے۔ یہ موجودہ دنیا میں کسی فرد کے لیے پر اعتماد زندگی کی ضمانت ہے۔ مگر مذکورہ قسم کا فارمولا انسان سے اس کا یہ فکری اثاثہ چھین لیتا ہے۔

جو معاشرہ اوّل الذکر فارمولے کی بنیاد پر بنے اس کے افراد صرف مادی حیوان کے مانند زندگی گزاریں گے۔ ان کا عقیدہ اپنے اندر صرف اضافی قدر (relative value) رکھنے والا ہوگا۔ ان کی اخلاقیات کی حیثیت صرف سماجی آداب(social manners) کی ہوگی۔ فوری خوشی (immediate pleasure) حاصل کرنے کے سوا ان کی زندگی کا کوئی اور مقصد نہ ہوگا۔ ان کی سرگرمیوں کا مرکز ومحور مادی ضرورتیں ہوں گی نہ کہ اعلیٰ آئیڈیل۔ ان کی زندگی میں کوئی معرفت (discovery) نہ ہوگی جس کو انھوں نے تلاش کے بعد پایا ہو اور جو انھیں یہ احساس عطا کرے کہ انھوں نے اس حقیقت اعلیٰ کو پالیا ہے جس کو ان کی روح تلاش کر رہی تھی۔

اتحاد انسانی کا اوّل الذکر فارمولا صرف ایک سوشل فارمولا ہے۔ وہ لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے کی ایک اسکیم ہے۔ مگر یہ اسکیم کسی سماج میں اس قیمت پر قائم ہوتی ہے کہ اس کے افراد میں ذہنی ارتقاء (intellectual development) کا عمل رک جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues

Printed page