Al-Risala · November 2006 · page 38

انسانی اتحاد

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۸

انسانی اتحاد

انسانی اتحاد ہزاروں سال سے اعلیٰ ترین دماغوں کا خواب رہا ہے۔ تمام اصلاح پسند لوگ ہمیشہ یہ سوچتے رہے ہیں کہ مختلف انسانی گروہوں میں کس طرح اتحاد اور یگانگت پیدا کی جائے۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ یہ کوششیں نہ صرف عملی نتیجہ پیدا کرنے میں نا کام رہیں بلکہ اس مقصد کے لیے کوئی قابل عمل فارمولا بھی اب تک وضع نہ کیا جا سکا۔

اس ناکامی کا سبب یہ ہے کہ تقریباً تمام اہل دماغ اس معاملہ میں غیر عملی طرزِ فکر کا شکار رہے ہیں۔ مختلف مفکرین اور مصلحین اس معاملہ میں جو کچھ کہتے رہے ہیں، وہ بعض ظاہری یا جزئی فرق کے ساتھ صرف ایک ہے۔ ان لوگوں نے دیکھا کہ انسانوں کے درمیان مختلف قسم کے فرق پائے جاتے ہیں، خاص طور پر مذہبی فرق۔ انھوں نے کہا کہ یہ فرق کسی حقیقی اختلاف پر مبنی نہیں ہیں۔ بلکہ وہ صرف تنوع کو بتاتے ہیں۔ یعنی ایک واحد حقیقت کا مختلف صورتوں میں ظاہر ہونا۔ یہ نظریہ کبھی بھی مختلف لوگوں کے لیے بڑے پیمانے پر قابلِ قبول نہ ہو سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف مذہبوں میں فرق کا پایا جانا، حقیقی اختلاف کی بنا پر ہے نہ کہ تنوع کی بنا پر۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ خدا کو ایک مستقل اور باشعور ہستی کے طور پر مانتے ہیں۔ اور کچھ دوسرے لوگوں کے نزدیک خدا کا لفظ محض ایک علامتی قدر (symbolic value) کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیوں کہ ان کے نزدیک اس کا کوئی حقیقی یا مستقل وجود نہیں ہے۔ یہ دو انتہائی متضاد نظریات ہیں جن کو کسی بھی طرح ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

انسانی اتحاد کا صحیح اور ممکن فارمولا یہ ہے— ایک کو ماننا اور دوسرے کا احترام کرنا : Follow one and respect all. یہ فطرت کا ایک اصول ہے جس پر انسانی زندگی کا پورا نظام چل رہا ہے۔ بقیہ تمام معاملات میں ہمارا طریقہ یہی ہے۔ ایسی حالت میں عقل اور فکر کا یہ تقاضا ہے کہ مذہب کے

‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues

Printed page