مسلم تاریخ—ایک جائزہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲
مسلم تاریخ—ایک جائزہ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ۵۷۰ عیسوی میں پیدا ہوئے۔ آپ پر پہلی وحی ۶۱۰ عیسوی میں نازل ہوئی۔ یہی وہ سال ہے جب کہ اسلام کا آغاز ہوا۔ مبصرین کا اس پر اتفاق ہے کہ آغاز کے بعد جس طرح اسلام کی عالمی توسیع ہوئی، وہ انسانی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ تھا۔ مثال کے طور پر انڈیا کے ایک بنگالی اسکالر ایم این رائے (وفات ۱۹۵۴) کی ایک کتاب دہلی (اجنتا پبلی کیشنز) سے پہلی بار ۱۹۳۹ میں چھپی۔ اس کتاب کا نام یہ تھا:
The Historical Role of Islam
اس کتاب میں مصنف نے اسلام کے اس تاریخی پہلو کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ— اسلام کی توسیع تمام معجزات میں سب سے بڑا معجزاتی واقعہ ہے:
The expansion of Islam is the most miraculous of all miracles (p. 4)
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ آغاز کے بعد اسلام اور اہل اسلام کو بہت کم مدت میں عالمی غلبہ حاصل ہو گیا۔ یہ غلبہ تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا۔ اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے ایک شاعر نے بجاطور پر کہا ہے:
ہمیں چھائے ہوئے تھے شرق سے تا غرب دنیا میں نہ تھا پلہ کسی ملت کا دنیا میں گراں ہم سے اسلام کی یہ توسیع رومن ایمپائر اور برٹش ایمپائر کی طرح محض ایک سیاسی توسیع نہ تھی، توسیع کا یہ معاملہ مکمل طور پر ایک خدائی معاملہ تھا، وہ ایک خدائی منصوبے کے تحت پیش آیا۔ چنانچہ وہ اس خدائی منصوبے کی تکمیل تک باقی رہا، اور جب یہ منصوبہ مکمل ہو گیا اور اس کی براہِ راست ضرورت نہ رہی تو مسلمانوں کا پورا سیاسی محل تاش کے پتوں کی طرح بکھر گیا۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے قرآن کی اس آیت پر غور کیجئے: إنا نحن نزلنا الذكر و إنا له لحافظون (الحجر ۹) یعنی وہ خدا ہے جس نے اس قرآن کو اتارا اور خدا ہی یقینی طور پر اس کی حفاظت کرے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues