The Historical Role of Islam
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳
اس قرآنی آیت کا پس منظر یہ ہے کہ انسانوں کی رہنمائی کے لیے خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے بار بار اپنا کلام اتارا، مگر یہ خدائی کلام تاریخ میں محفوظ نہ رہ سکا۔ خدا نے پیغمبر آخر الزماں کے ذریعے انسان کی اس محرومی کو ختم کرنا چاہا اور یہ فیصلہ فرمایا کہ قرآن آخری خدائی کلام کے طور پر محفوظ ہو جائے تا کہ اس کے بعد دوبارہ کوئی پیغمبر اور کوئی کتاب بھیجنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ سنت اللہ کے مطابق، یہ کام معجزاتی طور پر نہیں کیا جا سکتا تھا۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے ملک عرب میں ایک لمبی منصوبہ بندی کی گئی۔ اس منصوبے کا آغاز اُس وقت ہوا جب کہ چار ہزار سال پہلے ہاجرہ کو اپنے چھوٹے بچے اسماعیل کے ساتھ مکہ کے صحرا میں آباد کر دیا گیا۔ اُس کے بعد ڈھائی ہزار سالہ تاریخی عمل کے نتیجے میں وہ ٹیم بنی جس کو ایک مستشرق اسکالر نے ہیروؤں کی قوم (a nation of heroes) کہا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس گروہ کے اندر پیدا ہوئے۔ آپ پر قرآن اتارا گیا۔ آپ نے قرآن کی بنیاد پر تحریک چلائی۔ اس قرآنی تحریک کی بنیاد پر انسانوں کی ایک جماعت بنی، پھر ایک غیر معمولی جدوجہد کے ذریعے اسلامی اقتدار کا وہ نظام بنا جس کو خلافت کا نظام کہا جاتا ہے۔ زمین کے تقریباً تمام حصے براہ راست یا بالواسطہ طور پر خلافت کے اس نظام کے زیر اثر آگئے ۔ خلافت کا یہ تصور خود قرآن سے اخذ کیا گیا تھا، کیوں کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ ایمان اور عمل صالح کی صفات سے متصف ہوں گے، ان کو خدا زمین میں خلافت عطا فرمائے گا (النور ۵۵) اب فطری طور پر ایسا ہوا کہ قرآن کا تصور اس نظام خلافت کی اساس بن گیا۔ یہ قرآن سے اخذ کردہ تصور، نظام خلافت کے قیام کے لیے وجہ جواز فراہم کرتا تھا۔ یہ قرآن کا تصور تھا جس پر عقیدہ رکھنے والوں کی حمایت، یا مین ڈیٹ (mandate) کے ذریعے کوئی خلیفہ اقتدار کی سیٹ پر بیٹھتا تھا۔ اسی کی ایک علامت وہ چیز تھی جس کو بیعت کہا جاتا ہے۔
قرآن کی اس حیثیت کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن کے اندر ایک سیاسی اہمیت، یا سیاسی قدر (political value) پیدا ہوئی۔ اب قرآن، خلافت کے تصور کے تحت قائم شدہ سیاسی ادارے کا اپنا انٹرسٹ بن گیا۔ اب خود سیاسی اقتدار کے لیے ضروری ہو گیا کہ وہ قرآن کا سرپرست بن کر اس کی
‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues