The Historical Role of Islam
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۵
اس کا سبب کیا ہے۔ راقم الحروف کے تجزیے کے مطابق، نظامِ خلافت کا انہدام اتفاقی نہیں تھا، اور نہ وہ کسی کی سازش کے تحت انجام پایا۔ یہ واقعہ مکمل طور پر خدا کی منصوبہ بندی کے تحت تھا۔ مسلمانوں کے ہزار سالہ سیاسی اقتدار کا اصل مقصد صرف ایک تھا، اور وہ ہے قرآن کی حفاظت۔ بقیہ چیزیں جو اس مدت میں مسلمانوں کو حاصل ہوئیں، وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ضمنی تھیں۔ قرآن کی حفاظت جب تک سیاسی اقتدار پر منحصر تھی، اُس وقت تک مسلمانوں کو سیاسی اقتدار حاصل رہا، اور جب اِس حفاظت کی ذمّے داری پرنٹنگ پریس نے لے لی تو اب سیاسی اقتدار نے اپنی اہمیت کھودی۔ چنانچہ خدا نے اُس سے اپنی مدد واپس لے لی۔ یہی اصل سبب ہے جس کی بنا پر مسلمانوں کا سیاسی اقتدار اپنی قدیم شکل میں باقی نہ رہا۔ خلافت کے سیاسی اقتدار کے ٹوٹنے کا ایک اور پہلو بھی تھا۔ اصل یہ ہے کہ آغازِ اسلام کے بعد ہزار سال تک جو سیاسی اقتدار قائم تھا، وہ روایتی دور میں قائم ہوا تھا۔ اس روایتی دور کی نسبت سے اسلامی فکر اور اسلامی عمل کا ایک ماڈل بن گیا تھا۔ اس ماڈل کی تشکیل روایتی ماحول میں ہوئی تھی۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک عارضی ماڈل تھا، مگر وہ لمبی مدت تک باقی رہا۔ اس بنا پر شعوری یا غیر شعوری طور پر عوام اور خواص دونوں نے یہ سمجھ لیا کہ یہی ماڈل اسلام کا حقیقی ماڈل ہے۔ حالاں کہ اس کے حق میں قرآن اور حدیث میں کوئی بنیاد موجود نہ تھی۔
مغربی نوآبادیات کا دَور اپنے ساتھ سائنسی انقلاب کا دَور لے آیا تھا۔ جدید سائنسی حالات نے قدیم روایتی نظام کو آج کے لیے مکمل طور پر غیر متعلق (irrelevant) بنا دیا تھا۔ ماقبل سائنس دَور (pre-scientific era) میں بننے والا ماڈل اب ما بعد سائنس دَور (post-scientific era) میں کار آمد نہیں رہا تھا۔ ضرورت تھی کہ اب اس کی نئی تشکیل کی جائے اور روایتی فریم ورک میں بننے والے ماڈل کی جگہ سائنسی فریم ورک میں نیا ماڈل بنایا جائے۔
قُرونِ وسطیٰ کے مسلمان اپنے عمل سے ثابت کر رہے تھے کہ وہ تشکیلِ نو کے اس کام کے لیے بالکل نااہل ہیں۔ اِس طرح مسلمان عملاً اسلام کی راہ میں ایک رُکاوٹ بن گئے۔ وہ اسلام کو دَورِ جدید میں داخل کرنے کے لیے نااہل ثابت ہوئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues