The Historical Role of Islam
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۴
مسلسل حفاظت کرتا رہے۔ قرآن کے محفوظیت ، سیاسی ادارے محفوظیت تھی اور قرآن کا غیر محفوظ ہونا یہ معنی رکھتا تھا کہ خود سیاسی ادارہ بھی غیر محفوظ ہو جائے۔
قدیم زمانے کے سماج میں صرف سیاسی ادارہ ہی واحد طاقت ور ادارہ ہوا کرتا تھا۔ اُس زمانے میں کوئی بھی دوسرا ادارہ نہیں ہوتا تھا جو کوئی مؤثر سماجی رول ادا کرنے کی پوزیشن میں ہو۔ قرآن سے پہلے جو کتابیں آئیں وہ قدیم روایتی دور میں آئیں۔ ان کتابوں میں سے کسی کتاب کی حمایت میں سیاسی ادارے کا زور شامل نہ ہو سکا۔ عالم اسباب کے لحاظ سے یہی سبب تھا جس کی بنا پر قدیم کتابیں محفوظ نہ رہ سکیں۔ قرآن کے ساتھ استثنائی طور پر ایسا ہوا کہ اس کی حفاظت کے لیے مسلسل طور پر سیاسی ادارے کی طاقت حاصل رہی۔ عالم اسباب کے اعتبار سے یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر قرآن استثنائی طور پر ایک محفوظ کتاب بن گیا۔ اسی کا ایک مظہر یہ تھا کہ حکمراں طبقے کے افراد بھی قرآن کو حفظ کرنے اور قرآن کی کتابت کرنے کو اپنے لیے فخر کی چیز سمجھتے تھے۔
قرآن کی حفاظت کا یہ سیاسی انتظام آغازِ اسلام کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا۔ یہ نظام صرف اُس وقت ختم ہوا جب کہ دنیا میں پرنٹنگ پریس کا زمانہ آگیا۔ پرنٹنگ پریس کی ایجاد نے قرآن کی حفاظت کے لیے سیاسی اقتدار کی اہمیت ختم کر دی۔ پرنٹنگ پریس کی ایجاد سے پہلے یہ ہوتا تھا کہ قرآن کا ہر نسخہ الگ الگ تیار کرنا پڑتا تھا، مگر پرنٹنگ پریس نے اس بات کو ممکن بنا دیا کہ قرآن کی ایک کاپی نہایت صحیح طور پر لکھ کر تیار کی جائے اور پھر چھاپ کر اس سے ملین اور بلین کی کاپیاں تیار کر لی جائیں۔ اس زمانی تغیر نے قرآن کی حفاظت کو سیاسی دائرے سے نکال کر صنعتی دور میں پہنچا دیا۔ اس تبدیلی کے بعد یہ ناممکن ہو گیا کہ کوئی مخالف قوت، قرآن کو ایک غیر محفوظ کتاب بنا سکے۔ پرنٹنگ پریس کے ظہور کے ساتھ نو آبادیاتی دَور (colonialism) کا بھی ظہور ہوا۔ اِس نَو آبادیاتی دَور نے خلافت، یا مسلمانوں کی سیاسی بالادستی کا خاتمہ کر دیا۔ انیسویں صدی عیسوی میں خلافت کا محل تاش کے پتوں کی طرح بکھر گیا۔ اس کے بعد سے مسلمان تمام دنیا میں کسی نہ کسی عنوان سے احیاء خلافت کے لیے لڑ رہے ہیں، مگر انھیں اس معاملے میں ایک فیصد کے بقدر بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues