He died as a disappointed person.
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۹
زمانے کی شاہی خاندان کا معلم بن گیا۔ لیکن اس کی سوانح عمری میں ہمیں یہ الفاظ لکھے ہوئے ملتے ہیں کہ ــــ وہ ایک مایوس انسان کی طرح مرا:
He died as a disappointed person.
ایسا کیوں ہوا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ افلاطون نے یونان میں آئیڈیل اسٹیٹ قائم کرنے کو اپنا مقصد بنایا۔ اس نے اس موضوع پر کتاب لکھی۔ اس نے وقت کے شاہی خاندان کے اپنے آئیڈیل نظریے کے مطابق تعلیم و تربیت کی۔ اُس کے نزدیک اس کا آئیڈیل اسٹیٹ اتنا کامل تھا کہ اس نے اس موضوع پر اپنی کتاب میں سزا (punishment) کا قانون شامل نہیں کیا۔
مگر عملاً یہ ہوا کہ اس کا آئیڈیل اسٹیٹ سرے سے قائم ہی نہ ہو سکا، نہ کسی شہر میں اور نہ پورے ملک میں۔ آخر کار وہ سخت مایوسی میں مبتلا ہوا، اور اسی مایوسی کے عالم میں حسرت کے ساتھ مر گیا۔ یہی انجام، بلا استثناء ہر فلسفی اور ہر مفکر اور ہر رفارمر کا ہوا ہے۔ ہر ایک نے اپنے ذہن میں ایک آئیڈیل دنیا بنانے کا خواب دیکھا۔ مگر کوئی بھی شخص اپنی آئیڈیل دنیا نہ بنا سکا ۔ آپ کسی بھی مشہور آدمی کی سوانح عمری پڑھیے تو آخر میں ہر ایک کے بارے میں یہ لکھا ہوا ملے گا کہ وہ اپنے نشانے کو پانے میں ناکام رہا اور آخر کار مایوسی کے عامل میں مرگیا۔ روسو، مارکس، ڈارون، جان آسٹن، لارڈ کرزن، وغیرہ ہر ایک کا خاتمہ محرومی کے احساس کے ساتھ ہوا۔
انسان کی اس عمومی ناکامی کا سبب یہ تھا کہ ہر ایک نے یہ غلطی کی کہ اس نے خدا کی تخلیقی اسکیم (creation plan) کو سمجھے بغیر خود اپنے ذہن سے اپنا ایک آئیڈیل نقشہ بنایا اور وہ اس کو حاصل کرنے کے لیے دوڑ پڑا۔ حالاں کہ خالق کے تخلیقی پلان کو سمجھے بغیر اس قسم کی کوشش سراسر عبث تھی۔ ایسی کوشش کبھی اس دنیا میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اسی ناکام تجربے کی بنا پر لوگوں میں عمومی طور پر وہ تصور رائج ہو گیا جس کو ایک جملے میں اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ ــــ آئیڈیل کبھی حاصل نہیں ہوسکتا: Ideal can’t be achieved. مگر حقیقت واقعہ کے اعتبار سے یہ قول درست نہیں۔ انسان کے دماغ میں جو آئیڈیل بسا ہوا
‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues