He died as a disappointed person.
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۰
ہے وہ یقینی طور پر قابلِ حصول ہے، مگر موت سے پہلے کی دنیا میں نہیں بلکہ موت کے بعد کی دنیا میں۔ خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق، یہ آئیڈیل دنیا جنت ہے، اور وہ مستحق افراد کو صرف موت کے بعد کی زندگی میں حاصل ہوگی۔ انسان کی غلطی یہ ہے کہ وہ آئیڈیل دنیا کو موت سے پہلے کی زندگی میں پانا چاہتا ہے۔ حالاں کہ خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، یہ آئیڈیل دنیا صرف موت کے بعد کی زندگی میں حاصل ہونے والی ہے۔
خدا کے تخلیقی پلان سے اس بے خبری کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر انسان کا یہ کیس بن گیا کہ وہ امید کے ساتھ اپنی زندگی کا آغاز کرے اور محرومی کا احساس لے کر مر جائے۔ حالاں کہ اگر وہ خدا کے تخلیقی پلان کو جانے اور اس کے مطابق عمل کرے تو اس کے لیے موت سے قبل کی زندگی میں بھی امید ہے اور موت کے بعد کی زندگی میں بھی امید۔ ایسا آدمی فطری طور پر کبھی ذہنی تناؤ (tension) میں مبتلا نہیں ہوگا اور وہ اس المیے سے بھی بچ جائے گا کہ محرومی کے احساس پر اس کا خاتمہ ہو۔ تاریخ میں بہت سے مفکر اور رفارمر گزرے ہیں جو یہ چاہتے تھے کہ موجودہ دنیا میں آئیڈیل اسٹیٹ، آئیڈیل نظام، آئیڈیل سماج، آئیڈیل ادارہ بنے، مگر بلا استثنا ہر ایک اپنے مقصد میں ناکام رہا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موت سے پہلے کی یہ موجودہ دنیا اس مقصد کے لیے بنائی ہی نہیں گئی۔ اصل یہ ہے کہ خالق نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق، ہر انسان کو مکمل آزادی دی ہے۔ اس دنیا میں ایسا کوئی میکانزم نہیں جو لوگوں کو مجبور کرے کہ وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال نہ کریں۔ چنانچہ پوری تاریخ میں ہمیشہ یہ ہوتا رہا کہ افراد نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کر کے پورے نظام کو غلط رُخ پر ڈال دیا اور ابتدائی مُصلح کے پورے نقشے کو تباہ کر ڈالا۔
فلسفی افلاطون نے اپنے زمانے کے بادشاہ سکندرِ اعظم (Alexander the Great) کو شہزادگی کے زمانے میں تربیت دے کر تیار کیا کہ وہ افلاطون کے آئیڈیل اسٹیٹ کو قائم کرے۔ لیکن سکندرِ اعظم جب بڑا ہوا تو اس نے افلاطون کی تعلیم کو چھوڑ کر اپنی پسند کا راستہ اختیار کر لیا۔ جرمن فلسفی کارل مارکس (وفات ۱۸۸۳) کے اقتصادی نظریات کی بنیاد پر کمیونسٹ پارٹی بنی۔ لینن اور اسٹالن کی
‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues