Al-Risala · December 2006 · page 16

Eat, drink and be merry.

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۶

عمل کرنے کا زمانہ ہے اور موت کے بعد کا زمانہ اپنے عمل کے مطابق ، اس کا انجام پانے کا زمانہ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ امتحان ہال، کسی اسٹوڈنٹ کے لیے ٹسٹ دینے کی جگہ ہے، اور امتحان ہال کے باہر کی دنیا جاب (job) حاصل کرنے کی دنیا۔ جو لوگ موت سے قبل کی دنیا میں اپنی تمناؤں کا محل بنانا چاہتے ہیں وہ اُس طالب علم کی مانند ہیں جو امتحان ہال کے اندر اپنے لیے جاب تلاش کرنے لگے، حالاں کہ ایسا ہونا بھی ممکن نہیں۔

پہلی عالمی جنگ جب ہوئی تو اُس وقت انگریز، انڈیا کے اوپر حکومت کر رہے تھے۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد انھوں نے نئی دہلی کے علاقے میں ایک شان دار دنیا تعمیر کی۔ اس میں وہ وسیع محل بھی شامل تھا جس کا نام اُس وقت’’ وائس رگل لاج‘‘ رکھا گیا تھا، اور اب اس کو’’ راشٹر پتی بھون‘‘ کہا جاتا ہے۔ انگریزوں کا خیال تھا کہ وہ اس شان دار دنیا میں ابدی طور پر عیش زندگی گزار سکیں گے، مگر ایسا نہ ہوسکا۔ دوسری عالمی جنگ نے ان کے سنہرے خواب کو درہم برہم کر دیا۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد ایک فرانسیسی مدبر نئی دہلی آیا تھا۔ اس نے انگریزوں کی بنائی ہوئی اس خوش نما دنیا کو دیکھا تو اس نے کہا کہ ــــ انھوں نے کیسی شاندار دنیا بنائی، صرف اس لیے کہ ایک دن وہ اس کو چھوڑ دیں: What a magnificent world they built to leave. انگریزوں سے پہلے دہلی میں مغل خاندان کا راج تھا۔ ۱۸۵۷ء میں ان کی حکومت ختم ہوگئی۔ دہلی میں ان کی چھوڑی ہوئی شان دار عمارت’’ لال قلعہ‘‘ کی شکل میں موجود ہے۔ لال قلعہ کے ایک حصے میں میوزیم ہے۔ اس میوزیم میں جو چیزیں موجود ہیں، اُن میں سے ایک وہ ٹوٹا ہوا پتھر ہے جس کے اوپر یہ فارسی شعر کندہ ہے ــــ آسمان کے نیچے ان کی سلطنت ہمیشہ باقی رہے: ہمیشہ باد به زیر سپہرِ قُلُموں!

اس ٹُوٹے ہوئے پتھر کے ساتھ جو تشریحی عبارت لکھی ہوئی ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ پتھر ایک قدیم محل میں نصب تھا۔ وہ محل اب بالکل مٹ چکا ہے۔ اس کا یہ پتھر یادگار کے طور پر لال قلعہ کے میوزیم میں رکھ دیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues

Printed page