Al-Risala · December 2006 · page 15

Eat, drink and be merry.

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۵

آج تمام دنیا کے لوگ اس فلسفے کو قبول کیے ہوئے ہیں ۔ وہ چیز جس کو مادّیت (materialism) کہا جاتا ہے، وہ دراصل یوٹیلیٹرین ازم ہی کا دوسرا نام ہے۔

یوٹیلیٹرین اسکول، یا میڑ یلسٹ اسکول کے مطابق، موجودہ دنیا ہی وہ جگہ ہے جہاں آدمی اپنی تمناؤں اور خواہشوں کو پورا کر سکتا ہے۔ ویبسٹر کے مطابق، اس نظریے کی سادہ تعریف یہ ہے: The doctrine that the worth or value of anything is determined solely by its utility. یوٹیلیٹرین ازم کا نظریہ کوئی نیا نظریہ نہیں ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ وہی چیز ہے جس کو عوامی زبان میں اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ ـــ کھاؤ، پیواور خوش رہو:

Eat, drink and be merry.

یہ تصور دنیا کی ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔ اسی تصور کو ہندوستان کے شہنشاہ بابر (وفات ۱۵۳۰) نے اپنے یک شعر میں اس طرح بیان کیا تھا:

بابر به عیش کوش که عالم دوباره نیست !

مگر پوری تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ یہ نشانہ قابل حصول نہیں ۔ جیسا کہ معلوم ہے، ہر آدمی سو سال سے کم مدت کے لیے موجودہ دنیا میں جینے کا موقع پاتا ہے۔ اس محدود مدت میں اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنی آرزوؤں کے مطابق، یہاں اپنی مطلوب دنیا بنا سکے، ایسی آرزوئیں جو کہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے لامحدود حیثیت رکھتی ہیں۔ طرح طرح کی رکاوٹیں اس کا راستہ روک دیتی ہیں۔ حادثات اور بیماری اور دوسرے ناموافق اسباب اس کے لیے اپنے منصوبے کی تکمیل میں فیصلہ کن رکاوٹ بن جاتے ہیں اور اگر بالفرض کوئی شخص اپنی خواہشوں کا ایک محل بنالے، تب بھی بہت جلد ایسا ہوتا ہے کہ اس کی مرضی کے بغیر موت آتی ہے اور ایک طرفہ فیصلے کے تحت، اس کی خواہشوں کے محل کو ڈھا دیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نظریہ فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ فطرت کے مقرر نقشے کے مطابق، انسان کی زندگی دو دور میں تقسیم ہے ـــ موت سے پہلے، اور موت کے بعد۔ موت سے پہلے کا زمانہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues

Printed page