نقطۂ آغاز
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۷
حوالے سے اپنی تحریک چلا رہا ہے، مگر سب ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ کسی کے نزدیک احیاء اسلام کے عمل کا آغاز یہ ہے کہ فضائل کی کہانیاں سنا کر لوگوں کو نمازی بنایا جائے۔ کوئی سمجھتا ہے کہ اقتدار حاصل کر کے اسلامی قوانین کو نافذ کیا جائے۔ کسی کا خیال ہے کہ قومی فخر کا احساس پیدا کر کے مسلمانوں کو بیدار کیا جائے۔ کسی کا ماننا یہ ہے کہ قرآن کی آیتوں اور سورتوں کے اندر چھپے ہوئے نظم کو کھولا جائے۔ کسی کا کہنا یہ ہے کہ جغرافی تقسیم کر کے مسلمانوں کا علیحدہ پاکٹ بنایا جائے، اس طرح مسلمان خیر امت کا کردار ادا کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عشق رسول کی دھوم مچائی جائے اور پھر سارا مسئلہ اپنے آپ حل ہو جائے گا۔ اسی طرح کچھ لوگ مسائل اسلام اور مظاہر اسلام کو اصل سمجھ کر اس کی دھوم مچائے ہوئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہی نجات کا واحد ذریعہ ہے۔ کچھ اور لوگ ہیں جو حصول برکت کو سب سے زیادہ اہم چیز سمجھتے ہیں اور اسی کو تمام سعادتوں کا سر چشمہ سمجھتے ہیں۔ کچھ لوگ کمیونٹی ورک یا ملی خدمت کو اصل کام سمجھے ہوئے ہیں اور اس کو نجات کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ کچھ لوگ شوکت اسلام کے نام پر تقریر اور تحریر کی سرگرمیاں جاری کیے ہوئے ہیں اور اس کو دنیا اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ کچھ لوگ جہاد کی آیت کا حوالہ دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جہادی سرگرمیاں جاری کرنا ہی اسلام کا سب سے زیادہ مطلوب کام ہے، وغیرہ۔
حدیث میں پیشین گوئی کی گئی ہے کہ بعد کے زمانے میں امت مسلمہ میں تہتر فرقے ہو جائیں گے (ابوداؤد، کتاب السنة) میرا خیال ہے کہ یہ تہتر فرقے، دراصل وہ تہتر گروہ ہوں گے جو قرآن کی تہتر آیتوں سے اپنے لیے الگ الگ نقطہ آغاز دریافت کریں گے اور پھر امت واحدہ کو امت متفرقہ میں تبدیل کر دیں گے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ نقطۂ آغاز کا فرق پورے معاملے میں فرق پیدا کر دیتا ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ ترتیب کار کے سوال کا جواب اصحاب رسول کی تاریخ میں تلاش کیا جائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی طور پر اپنے اصحاب کو کیا نقطۂ آغاز دیا اور کس رخ پر انھیں چلایا، یہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔ نقطۂ آغاز یا ترتیب کار کا سوال ایک عملی سوال ہے، اور اس کو عملی تاریخ ہی کے ذریعے معلوم کیا جا سکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues