Al-Risala · December 2006 · page 28

نقطۂ آغاز

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۸

حدیث میں آیا ہے کہ : اِنّ اللہ یبعث لہذہ الأُمّة علی رأس کلّ مائة سنة من یجدّد لھا دینھا (ابوداؤد، کتاب الملاحم) اور دوسری طرف حدیث میں یہ خبر دی گئی ہے کہ خیر القرون قرنی، ثم الذین یلونھم، ثم الذین یلونھم ( صحیح البخاری )۔ اس دوسری حدیث کے مطابق، ابتدائی تین زمانوں (عہد رسالت، عہد صحابہ، عہد تابعین) کو قرونِ مشہود لھا بالخیر کہا گیا ہے۔ اس قسم کی حدیثوں پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آتا ہے کہ پہلے دور سے مراد وہ دور ہے جب کہ صحیح نقطۂ آغاز لے کر کام کیا گیا اور اس کے مطابق، ایک نسل تیار ہوئی۔ فطرت کے قانون کے مطابق، دوسری نسل پہلی نسل سے گہرے طور پر متاثر ہوتی ہے۔ یہ تیسری نسل تک کم وبیش باقی رہتا ہے۔ اس کے بعد حالات بدل جاتے ہیں اور ضرورت ہوتی ہے کہ صحیح نقطۂ آغاز سے کام شروع کر کے دوبارہ پہلے گروہ کے مانند ایک گروہ بنایا جائے۔

اس سلسلے میں حدیث میں ’سو سال‘ کا ذکر کیا گیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سو سال سے مراد مذکورہ تین نسلوں کا زمانہ ہے۔ سو سال کے اندر تربیت یافتہ تین نسلوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ضرورت ہوتی ہے کہ دوبارہ پہلے کی طرح ایک تربیت یافتہ نسل بنائی جائے۔ تربیت یافتہ نسل بنانے کے اسی کام کو حدیث میں ’تجدید‘ کہا گیا ہے۔ حدیث کے مطابق ، تجدید کا یہ کام بار بار سو سالہ وقفے کے ساتھ جاری رہے گا، یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔

احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری زمانے میں امت مسلمہ میں ایک شخص پیدا ہو گا جس کو المہدی کا نام دیا گیا ہے۔ المہدی کوئی سیاسی لیڈر نہیں ہوگا۔ وہ حکومت قائم کرنے کے لیے نہیں اٹھے گا، بلکہ اس کا کام یہ ہوگا کہ دورِ آخر کے زیادہ بدلے ہوئے حالات میں از سرِ نو صحیح نقطۂ آغاز کو دریافت کرے اور اس کے مطابق، اصلاح اور دعوت کا عمل جاری کر کے اسلام کو دوبارہ اس کی اصل صورت میں قائم کردے۔

صحیح نقطۂ آغاز سے مراد صحیح ترتیب کار ہے۔ صحابہ کے حالات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی زندگی کا آغاز سچائی کی تلاش سے ہوا۔ ابتداءً وہ سچائی کی تلاش میں سرگرداں ہوئے۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues

Printed page