نقطۂ آغاز
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۹
کے بعد یہ ہوا کہ ان کو سچائی کی ڈسکوری ہوئی۔ اس کے بعد ان کی زندگی میں ایک اور عمل جاری ہوا جس کو قرآن میں تزکیہ کہا گیا ہے۔ تزکیہ سے مراد کوئی پر اسرار چیز نہیں۔ اس کا مطلب ہے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning)، ذہن کی ری انجینئرنگ (re-engineering)، اور وہ چیز جس کو تزکیہ نفس (purification of soul) کہا جاتا ہے۔
اسی کے ساتھ ہر صحابی کی زندگی میں دعوت کا عمل شامل ہو گیا۔ معرفت اور دعوت دونوں باہم اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ معرفت اور دعوت دونوں اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہی کام ہیں جو دورِ اول میں پیش آئے تھے، لیکن جدید سائنسی دور میں جو نئے فکری مواقع ظہور میں آئے ہیں وہ بھی حسب امکان اس کا حصہ بنتے چلے جائیں گے۔ گویا کہ موجود زمانے میں حق کی اعلیٰ معرفت کسی کو سائنسی فریم ورک میں حاصل ہوگی، اور اسی طرح دعوت کا کام بھی سائنسی فریم ورک کے مطابق انجام پائے گا۔ سائنسی فریم ورک سے مراد عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں لسان قوم، یعنی لسان عصر کہا گیا ہے (ابراہیم (۴)۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ قدیم اور جدید کا امتزاج نہیں ہوگا بلکہ وہ قدیم کا صرف ایک نیا اظہار ہوگا، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ جب کوئی آدمی ایک بڑی سچائی کو دریافت کرے تو فوراً وہ چاہتا ہے کہ دوسروں کو وہ اس سچائی میں حصے دار بنائے۔ عین فطری تقاضے کے طور پر اس کے اندر یہ تڑپ جاگ اٹھتی ہے کہ وہ چیز جو اس نے اپنے نسخہ نجات کے طور پر دریافت کی ہے، اس سے کوئی بھی عورت اور مرد محروم نہ رہے، اس طرح دعوت، معرفت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ گویا کہ دعوت، معرفت ہی کی توسیعی صورت ہے۔ جہاں معرفت ہوگی وہاں دعوت ضرور ہوگی۔ اگر کوئی شخص حصول معرفت کا دعویٰ کرے، لیکن اس کی زندگی میں دعوت شامل نہ ہو تو یقینی طور پر یہ سمجھا جائے گا کہ وہ ابھی تک معرفت سے آشنا نہیں ہوا۔
حقیقت اپنی ذات میں ایک نا قابل تقسیم اکائی ہے۔ حقیقت کے مختلف مظاہر ہو سکتے ہیں، لیکن خود حقیقت ہمیشہ ایک ہی رہتی ہے۔ یہی معاملہ معرفت حق کا ہے۔ جب ایک آدمی کو لمبی مدت تک سنجیدہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues