Al-Risala · December 2006 · page 31

رمضان اور جنگ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۱

رمضان اور جنگ

کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ رمضان کا مہینہ شہر الفرقان ہے، یعنی یہ مہینہ فتح کا مہینہ ہے۔ اُن کے نزدیک رمضان کے مہینے میں اگر جہاد (بمعنی قتال) کیا جائے تو فتح یقینی ہو جاتی ہے۔ چنانچہ پچھلے برسوں میں کچھ لوگوں نے اس خیال کو لے کر رمضان کے مہینے میں اپنے مفروضہ دشمن کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ لیکن یہ جنگ یک طرفہ طور پر ’’مجاہدین‘‘ کی تباہی پر ختم ہوئی۔ عجیب بات ہے کہ اس معکوس تجربے کے باوجود لوگوں کے نظریے میں فرق نہیں آیا۔ وہ اب بھی رمضان کے مہینے میں جنگ کی باتیں کر رہے ہیں۔

رمضان کے مہینے کو فتح کا مہینہ سمجھنے کا ماخذ کیا ہے۔ اس کا ماخذ یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جنگ بدر پیش آئی۔ یہ جنگ ۱۷ رمضان ۲ ہجری کو ہوئی ۔ اس جنگ میں رسول اور اصحاب رسول کو فتح حاصل ہوئی۔ اس لیے یہ سمجھ لیا گیا کہ رمضان کا مہینہ فتح کا مہینہ ہے، مگر یہ ایک بے اصل بات ہے۔ بدر کی لڑائی کا رمضان کے مہینے میں پیش آنا، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا انتخاب (choice) نہ تھا۔ بدر کی جنگ ایک دفاعی جنگ تھی۔ وہ رمضان کے مہینے میں اس لیے پیش آئی کہ فریق مخالف کا لشکر اسی مہینے میں اقدام کر کے مدینے کے قریب بدر کے مقام پر پہنچا۔ یہ فریق مخالف کی طرف سے یک طرفہ اقدام تھا اور اس مسلح اقدام کی بنا پر بدر کی دفاعی جنگ پیش آئی۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بدر کی لڑائی کے علاوہ بھی کچھ اور لڑائیاں پیش آئیں ۔ مثلاً غزوہ اُحد اور غزوہ حنین ۔ مگر یہ دوسری لڑائیاں رمضان کے مہینے میں نہیں ہوئیں۔ احد کی لڑائی مدینہ کے پاس ۶ شوال ۳ ہجری میں پیش آئی، اور حنین کی لڑائی ۱۱ شوال ۸ ہجری میں ہوئی۔ اگر ایسا ہوتا کہ بدر کی لڑائی کا رمضان کے مہینے میں پیش آنا، پیغمبر اسلام کا اپنا انتخاب ہوتا تو احد اور حنین کی لڑائیاں بھی رمضان کے مہینے میں پیش آتیں ۔ مگر جب ایسا نہیں ہوا تو یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ رمضان کے مہینے کا کوئی تعلق قتال اور جنگ سے نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues

Printed page