Al-Risala · December 2006 · page 32

رمضان اور جنگ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۲

حقیقت یہ ہے کہ جنگ کبھی بھی اہل اسلام کا اپنا انتخاب (choice) نہیں ہوتا۔ اسلام میں جب بھی کوئی جنگ پیش آتی ہے تو وہ فریق مخالف کے مسلح اقدام کے نتیجے میں صرف دفاعی طور پر پیش آتی ہے۔ اور یہ واضح بات ہے کہ اقدام کرنے والے کے لیے تو تاریخ کا تعین اس کا اپنا انتخاب ہوتا ہے، مگر دفاع کرنے والے کے لیے تاریخ کا تعین اس کا اپنا انتخاب (choice) نہیں ہوسکتا۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تتمنّوا لقاء العدو وسئلوا الله العافية (صحیح البخاری) یعنی تم لوگ دشمن سے مد بھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت (امن) مانگو۔ اس حدیثِ رسول سے جنگ کے بارے میں اسلام کا بنیادی اصول معلوم ہوتا ہے۔ اسلام میں امن کی حیثیت عموم (rule) کی ہے اور جنگ کی حیثیت استثنا (exception) کی۔ اسلام میں جنگ ایک مجبورانہ فعل ہے نہ کہ اختیارانہ فعل۔ اسلام میں جنگ کی صورت حال خود اسلام کی طرف سے پیدا نہیں کی جاتی۔ یہ دراصل فریق مخالف ہے جو جنگ کی صورت حال پیدا کر کے اہل اسلام کو دفاعی طور پر مسلح ٹکراؤ کے لیے مجبور کرتا ہے۔

جہاں تک رمضان کے مہینے کی بات ہے تو حدیث میں رمضان کو شهر الصبر (البيهقی) کہا گیا ہے، یعنی صبر کا مہینہ۔ رمضان کا مہینہ اس بات کی تربیت کا مہینہ ہے کہ لوگ اپنے آپ پر کنٹرول کر کے رہنا سیکھیں۔ وہ اپنی خواہشوں پر لگام لگائیں۔ وہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہوں۔ وہ بھوک اور پیاس کی شدت برداشت کر کے اپنے اندر روحانیت پیدا کریں۔ ذکر اور تلاوت اور نماز کی کثرت سے وہ خدا کی قربت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ رمضان کے مہینے کا مقصد یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو آخری حد تک خدا سے قریب کرے۔ اور یہ قربت اُسی وقت ممکن ہے جب کہ آدمی اپنے آپ کو انسانوں کی دنیا سے دور لے جائے اور اپنے آپ کو خدا کی دنیا سے قریب کرے۔ ان حقیقتوں کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ رمضان کا مہینہ امن کا مہینہ ہے، وہ جنگ کا مہینہ نہیں۔ رمضان کا مہینہ اپنی داخلی فطرت کو جگانے کا مہینہ ہے، وہ خارجی نزاعات میں سرگرم ہونے کا مہینہ نہیں۔ رمضان کا مہینہ خدا کی یاد میں گم ہونے کا مہینہ ہے، وہ انسانوں سے الجھنے اور خون بہانے

‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues

Printed page