Al-Risala · December 2006 · page 33

رمضان اور جنگ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۳

کا مہینہ نہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب رمضان کا مہینہ آیا اور رمضان کا نیا چاند آسمان پر دکھائی دیا تو پیغمبرِ اسلام کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: اللّهم أهله علينا بالأمن والإيمان، والسلامة والاسلام (الترمذی: کتاب الدعوات، الدارمی: کتاب الصوم، مسند احمد) یعنی اے خدا، تو رمضان کے چاند کو ہمارے اوپر امن اور ایمان کے ساتھ اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ ظاہر فرما۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے کا استقبال اس احساس کے ساتھ فرمایا کہ وہ اہلِ اسلام کے لیے امن اور سلامتی کا پیغام لے کر آئے اور اہلِ اسلام کے درمیان امن اور سلامتی کا ماحول بنائے۔ پیغمبرِ اسلام کے یہ الفاظ اس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ رمضان کے مہینے کا کوئی تعلق قتال اور جنگ سے نہیں، بلکہ وہ اس لیے ہے کہ لوگوں کے اندر امن کے جذبات پیدا کرے اور سماج میں امن کو فروغ دے۔

قرآن میں روزے کا حکم دیتے ہوئے اس کا یہ فائدہ بتایا گیا ہے کہ: لعلکم تتقون (البقرہ: ۱۸۳) یعنی رمضان کے مہینے کا روزہ اس لیے فرض کیا گیا ہے تا کہ لوگوں کے اندر تقویٰ پیدا ہو، لوگ متقیانہ زندگی گزارنا سیکھیں، وہ برائیوں سے بچ کر زندگی گزارنے کی تربیت حاصل کریں۔ تقویٰ کیا ہے۔ اس کی وضاحت ایک حدیث سے ہوتی ہے۔ خلیفۂ ثانی عمر فاروق نے ایک سینئر صحابی ابی بن کعب سے پوچھا کہ تقویٰ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اے امیر المؤمنین، کیا آپ کسی ایسے راستے سے گزرے ہیں جہاں دونوں طرف کانٹے دار جھاڑیاں ہوں۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ ابی بن کعب نے پوچھا کہ اُس وقت آپ نے کیا کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے کپڑے سمیٹ لیے اور بچتا ہوا اُس سے گزر گیا۔ ابی بن کعب نے کہا: ذلک التّقویٰ ۔ یعنی اسی روش کا نام تقویٰ ہے۔ (القرطبی، جلد اول، صفحہ ۱۶۲)

رمضان کا مہینہ تقویٰ کا مہینہ ہے۔ اب مذکورہ قولِ صحابی کی روشنی میں اس معاملے کی وضاحت کی جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ رمضان کا مہینہ کانٹوں سے نہ الجھنے کا مہینہ ہے۔ ایسی حالت میں کتنا عجیب ہوگا کہ رمضان کے مہینے کو کانٹوں سے الجھنے کا مہینہ بنا دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues

Printed page