احساسِ محرومی کیوں
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۶
حیات (life span) ابد تک پھیلا ہوا ہے۔ جب آدمی مرتا ہے تو وہ ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہ اگلے مرحلہ حیات میں داخل ہو جاتا ہے۔ خالق کے کریشن پلان (creation plan) کے مطابق، موت سے قبل کی زندگی ٹیسٹ دینے کی زندگی ہے، اور موت کے بعد کی زندگی ٹیسٹ کے مطابق، اپنا انجام پانے کی زندگی۔ انسان کا ذہنی تناؤ، یا اس کا احساس محرومی صرف اس لیے ہے کہ وہ خالق کے تخلیقی نقشے کو سمجھ کر اپنی رائے نہیں بناتا۔ وہ ایسا کرتا ہے کہ جو کچھ خالق نے اس کے لیے بعد از موت مرحلہ حیات میں مقدر کیا ہے، اس کو وہ قبل از موت مرحلہ حیات میں پالینا چاہتا ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ آدمی حقیقت واقعہ کو سمجھے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ جو کچھ اس کو کل ملنے والا ہے، وہ اس کو آج ہی پالینا چاہے۔ جو آدمی درخت لگانے کے دن پھل کا طالب بن جائے اس کے حصے میں صرف مایوسی آئے گی۔ اس کے برعکس، جو آدمی درخت کی تکمیل پر اس کا پھل لینے پر راضی ہو جائے، اس کے لیے نہ کوئی تناؤ ہے اور نہ کوئی افسوس۔
ذہنی تناؤ دراصل چاہنے اور پانے کے درمیان فرق کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس فرق کو مٹا دیجیے اور پھر ذہنی تناؤ کا مسئلہ بھی ختم ہو جائے گا۔
عورت معمارِ انسانیت مولانا وحیدالدین خاں امن عالم مولانا وحیدالدین خان سیرت رسول ﷺ مولانا وحیدالدین خاں
‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues