Al-Risala · December 2006 · page 37

احساسِ محرومی کیوں

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۷

۱۔ بی بی سی (لندن) کے نمائندہ مسٹر صلاح الدین زین نے ۴ اگست ۲۰۰۶ کوصدر اسلام مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق ، اس مسئلے سے تھا کہ اسلام میں انٹر کاسٹ شادی کے بارے میں کیا حکم ہے۔ جوابات کے دوران بتایا گیا کہ یہ شرعی مسئلہ نہیں ہے بلکہ سماجی مسئلہ ہے۔ اسلام میں مذہبی بنیاد پر کوئی کاسٹ سسٹم نہیں ہے۔ ایک کاسٹ اور دوسری کاسٹ کے درمیان شادی بالکل جائز ہے۔ فقہ حنفی میں کفؤ کی بنیاد پر جو مسئلہ ہے وہ بھی کوئی شرعی مسئلہ نہیں ہے بلکہ وہ سماجی ضرورت کے تحت بنا ہے۔ انڈیا کے مشہور عالم مولا نا مفتی کفایت اللہ صاحب کُفو کے مسئلہ کے سخت مخالف تھے۔

۲۔ اٹلی (روم) سے ۵۵ عورتوں اور مردوں کی ایک ٹیم نئی دہلی آئی۔ دوسری مصروفیات کے علاوہ انھوں نے کناٹ پلیس (نئی دہلی) میں ۵ اگست ۲۰۰۶ کو ایک خصوصی اجتماع کیا۔ یہ اجتماع پارک ہوٹل کے ہال میں ہوا۔ ان کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اور تقریباً ایک گھنٹہ امن اور اسلام کے موضوع پر خطاب کیا۔ اس کے بعد آدھ گھنٹہ سوال اور جواب کا پروگرام تھا۔ اس خطاب میں اسلام کا تعارف پیش کیا گیا۔ سوال جواب کے دوران، اسلام کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی گئی۔ تقریر کے بعد ان لوگوں نے خود سے یہ کیا کہ ترانے کے انداز میں ان کے لیڈر مسٹر ماریہ یہ کہتے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم، اللہ، اللہ، اور لا الہ الا اللہ اور مجمع میں بیٹھے ہوئی تمام اطالوی عورت اور مرد اس کو بلند آواز سے دہراتے ۔ یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میں تھا۔ اور پورے پروگرام کی ویڈیو ریکارڈنگ کی گئی۔ اس کا کیسٹ ہمارے دفتر میں موجود ہے۔ ان لوگوں نے اسلام کی تمام تعلیمات سے اتفاق ظاہر کرتے ہوئے آخر میں یہ سوال کیا کہ اسلام جب اتنا پر امن اور فطری صداقتوں کا حامل مذہب ہے تو پھر مسلمان اسلامی تعلیمات کے برعکس کیوں ہیں۔ جواب میں بتایا گیا کہ اسلام اور مسلمانوں میں فرق ہے۔ اسلام کو جاننے کے لیے قرآن اور حدیث کا مطالعہ کرنا چاہیے نہ کہ موجودہ مسلم کمیونٹی کا۔

۳۔ نئی دہلی میں مقیم ریٹائرڈ جنرل ڈاکٹر چھبر نے اپنے طور پر اسلامی مرکز کی کتابیں پاکستان کے کچھ لوگوں کو بھجوائیں۔ ان میں سے ایک، جماعت اسلامی پاکستان کے امیر قاضی حسین احمد صاحب تھے۔ قاضی موصوف کو یہ کتابیں مل گئیں ۔ اس کے بعد انھوں نے جنرل چھبر کے نام اپنے خط مورخہ ۵ اگست ۲۰۰۶ میں اس کو اکنا لیج کرتے ہوئے یہ الفاظ لکھے ہیں:

Kindly convey my heartly gratitude to Maulana Wahiduddin Khan sahib for sending his scholarly piece "Mutala-e-Seerat" to me, Indeed, this book is an invaluable addition to my reading shelf. ۴۔ جرمنی سے ایک خط اسلامی مرکز کے دفتر میں آیا ہے۔ وہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues

Printed page