Al-Risala · December 2006 · page 39

احساسِ محرومی کیوں

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۹

صبح کو سات بج کر بیس منٹ پر صدر اسلامی مرکز کی تقریر سن سکتے ہیں۔

۸۔ نئی دہلی کے ہندی روز نامہ راشٹریہ سہارا کے نمائندہ مسٹر رمیش شرما نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ تفصیلی انٹرویو ۲۵ اگست ۲۰۰۶ کو ٹیلی فون پر ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تروندے ماترم کے مسئلے سے تھا۔ چوں کہ مختلف تنظیموں نے یہ اعلان کیا ہے کہ ۷ ستمبر ۲۰۰۶ کو پورے ملک میں وندے ماترم گایا جائے، اور ہر فرقے کے لوگ اس میں شریک ہوں۔ ۷ ستمبر ۲۰۰۶ کو اس نظم کی اشاعت پر سوسال پورے ہو جائیں گے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ اس معاملے میں ہندو اور مسلمان دونوں غلو کا شکار ہو رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وندے ماترم گانے کا نہ کوئی فائدہ ہے اور نہ کوئی نقصان۔ اس کے مؤیدین یہ کہتے ہیں کہ وندے ماترم دیش بھکتی کی اسپرٹ جگانے کے لیے ضروری ہے۔ سوال یہ ہے کہ وندے ماترم ایک سوسال سے برابر گایا جارہا ہے۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن، اسکول اور جلسے ہر جگہ مگر نتیجہ برعکس ہے۔ اس مدت میں دیش بھکتی تو نہیں بڑھی، البتہ دولت بھگتی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ایسی حالت میں ۷ ستمبر کا دن اس معاملے پر ری اسیس منٹ (reassessment) کے طور پر منایا جانا چاہیے نہ کہ خوشی کے طور پر۔

۹۔ نئی دہلی کے بہائی ہاؤس آف ورشپ (لوٹس ٹیمپل میں ۲۷ اگست ۲۰۰۶ کو ایک اجتماع ہوا جس میں مختلف مذہبوں کے نمائندے شریک ہوئے۔ اس کا موضوع یہ تھا:

Human being: The Living Dwelling Place of the Divine اس کی دعوت پر اسلام کے نمائندہ کی حیثیت سے صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ انھوں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس موضوع پر خطاب کیا۔ ایک بات انھوں نے یہ کہی کہ مذاہب کے درمیان جھگڑا زیادہ تر کٹر پن کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس کو اسلام میں غلو کہا گیا ہے۔ غلو کا مطلب ہے انتہا پسندی (extremism)۔ ۱۰۔ دوردرشن (نئی دہلی) کے اسٹوڈیو میں ۲۹ اگست ۲۰۰۶ کو ایک خصوصی پروگرام تھا۔ اس میں کئی لوگوں کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ اس کا موضوع کمیونل ہارمنی تھا_ صدر اسلامی مرکز نے بھی اس کی دعوت پر اس پروگرام میں شرکت کی۔ انھوں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بتایا کہ ہندوستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیسے لائی جاسکتی ہے۔ ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ کسی بھی سماج میں اختلاف کا پیدا ہونا بالکل فطری ہے۔ اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اختلاف سے ٹکرانے کے بجائے اس کو نظر انداز کریں۔ وہ ڈفرنس مینجمنٹ کے اصول پر اس مسئلے کو حل کریں۔ وہ کسی بھی حال میں احتجاج اور مظاہرہ اور تشدد کا طریقہ نہ اختیار کریں۔ اس پروگرام میں سوامی اگنی ویش، تارا بھٹا چاریہ، پروفیسر کمار، وغیرہ شریک ہوئے۔

۱۱۔ جن مت ٹی وی (نئی دہلی) کی نمائندہ مزور مانی (Jyoti Virmani) نے ۳۰ اگست ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو اس سوال پر تھا کہ انشورنس کروانا، مسلمان کے لیے جائز ہے کہ نہیں۔ جواب میں بتایا

‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues

Printed page