Al-Risala · December 2006 · page 40

احساسِ محرومی کیوں

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۴۰

گیا کہ ہر چیز کو جائز اور ناجائز کا مسئلہ بنانا، یہ خود اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ سب سے پہلے حالات کو دیکھا جاتا ہے۔ حالات کے مطابق، جو چیز قابل عمل ہو اس پر فتویٰ دیا جاتا ہے۔ جو چیز قابل عمل نہ ہو اس پر فتویٰ دینا یہ خود اسلام کے خلاف ہے۔ کیوں کہ ایسا فتویٰ اپنے نتیجے کے اعتبار سے کوئی اصلاح کی بات نہیں ہے بلکہ وہ اسلام کی تصغیر کے ہم معنی ہے۔

۱۲۔ بی بی سی لندن کے نمائندہ مسٹر صلاح الدین نے ۳۱ اگست ۲۰۰۶ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو کا موضوع حج سبسڈی تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ حج سبسڈی، جو گورنمنٹ کی طرف سے دی جاتی ہے وہ بالکل جائز ہے، اس میں ناجائز کی کوئی بات نہیں ہے۔ تمام مسلم ملکوں میں یہ طریقہ رائج ہے۔ حالاں کہ مسلم رہنما ہر مسلم ملک کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہاں کے حکمران اسلامی اصولوں پر حکومت کا نظام نہیں چلاتے ۔ مسلمان اپنے دنیوی حقوق کے معاملے میں جمہوریت کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہندوستان کی حکومت اُسی طرح ہماری حکومت ہے جس طرح وہ ملک کے دوسرے باشندوں کی حکومت ہے۔ ایسی حالت میں حج سبسڈی کے بارے میں مسلم ممالک اور ہندوستان کے درمیان فرق کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔

۱۳۔ جَین ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۳ ستمبر ۲۰۰۶ کی شام کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق، وندے ماترم سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اس اشو پر شور و غل کرنا اور اس کو شرعی مسئلہ بنانا درست نہیں۔ ڈاکٹر محمد اقبال نے اپنی ایک نظم میں برہمن کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: پتھر کی مورتی میں سمجھا ہے تو خدا ہے خاک وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے جب مسلمانوں سے کہا جاتا ہے کہ اقبال کا یہ شعر بھی اتنا ہی قابل اعتراض ہے جتنا کہ وندے ماترم، تو مسلمان کہتے ہیں کہ اقبال نے جو کہا تھا وہ تو شعر و شاعری کی بات ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ بنکم چندر چٹرجی نے اپنے ناول آنند مٹھ میں وندے ماترم کی شکل میں جو گیت شامل کیا وہ بھی تو ناول اور شعر و شاعری کی بات ہے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ یا تو دونوں کے خلاف ہنگامہ کریں یا دونوں کو نظر انداز کر دیں۔ ۱۴۔ شانتی گری آشرم (نئی دہلی) کا سالانہ فنکشن ۳ ستمبر ۲۰۰۶ کو تھا۔ شانتی گری آشرم کا مرکز کیرلا (تری وندرم) میں ہے۔ اس کے فاؤنڈر گرونا کر اگروہیں۔ وہ ایک مسلم صوفی قریشیہ فقیر کے شاگرد مانے جاتے ہیں۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ یہاں کئی ممتاز افراد کی تقریریں ہوئیں۔ صدر اسلامی مرکز نے اپنی تقریر میں قرآن اور حدیث کی روشنی میں بتایا کہ امن اور انسانیت کے بارے میں اسلام کی تعلیمات کیا ہیں۔ اس موقع پر تعلیم یافتہ افراد بڑی تعداد میں شریک تھے۔ ان لوگوں کے درمیان اسلامک لٹریچر اور دعوہ بروشر تقسیم کیا گیا۔ کئی لوگوں سے اسلام کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔

۱۵۔ بی بی سی کے نمائندہ مسٹر عبد الباقی مرزا نے ۳ ستمبر ۲۰۰۶ کی شام کو ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو کار

‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues

Printed page