Faith and Reason
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۴۳
سے جو سوالات اٹھائے ہیں ان کی مدلل وضاحت کی جائے۔ مثلاً یہ کہ تشدد کا کوئی تعلق، اسلام سے نہیں۔ جو مسلمان تشددانہ تحریک چلاتا ہے وہ اسلام سے انحراف کر کے ایسا کر رہا ہے۔
۲۵۔ زی نیوز (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۱۶ ستمبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو یا نٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق پوپ بینڈکٹ کے حالیہ بیان سے تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اسلام کا کوئی مثبت کنٹری بیوشن انسانی تاریخ میں نہیں۔ اس کے جواب میں یہ بتایا گیا کہ پوپ کا یہ دعویٰ بالکل بے اصل ہے۔ اپنے سات صفحے کے پیپر میں انھوں نے اس کی کوئی دلیل نہیں دی۔ ان کا ایک دعویٰ یہ تھا کہ اسلام تلوار کے ذریعے پھیلایا گیا۔ بتایا گیا کہ اصل واقعہ اس کے برعکس ہے۔ اسلام اپنی نظریاتی طاقت سے پھیلا، نہ کہ تلوار کی طاقت سے۔ خود مغربی مصنفین نے اس کا اعتراف کیا ہے۔ مثلاً ٹامس کارلائل، اورٹی ڈبلو آرنلڈ، وغیرہ۔ اس کے انٹرویو ر مسٹر راجیو (Rajeev Ranjan) تھے۔ ۲۶۔ اسٹار نیوز (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۱۶ ستمبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوال کا تعلق، زیادہ تر اس مسئلے سے تھا کہ مسیحی پوپ نے اسلام کے خلاف جو ریمارک دیا تھا اس پر اس نے غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔ ایسی حالت میں اب اس معاملے میں مسلمانوں کی پوزیشن کیا ہونی چاہیے۔ جواب میں بتایا گیا کہ اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ معافی کو فوراً قبول کر لیا جائے اور معاملے کو بالکل ختم کر دیا جائے۔
۲۷۔ اسٹار نیوز (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۱۶ ستمبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو یا نٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو ر مسٹر رائے (Amritanshu Rai) تھے۔ سوالات کا تعلق اس مسئلے سے تھا کہ شریعت میں فتویٰ کیا ہے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ فتویٰ کا مطلب ایک مفتی کی ذاتی رائے ہے۔ کوئی مفتی اپنی ذاتی رائے اُس وقت دیتا ہے جب کہ کوئی شخص خود اپنے ذاتی معاملے سے متعلق، مفتی کی رائے جاننا چاہے۔ ۔۔ یہ طریقہ، فتویٰ کا غلط استعمال ہے کہ مسئلہ کسی اور کا ہو اور سوال کوئی اور شخص کرے۔ اسی طرح یہ بھی فتویٰ کا غلط استعمال ہے کہ مفتی اپنی حد سے باہر جا کر ایسے مسئلے میں فتوے جاری کرے، جس کا تعلق، عدالت اور حکومت سے ہو۔
۲۸۔ دہلی کے ٹی وی چینل ۷ نے ۱۶ ستمبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو ر مسٹر جتارتھ (Jitarth) تھے۔ سوالات کا تعلق مسیحی پوپ کے حالیہ بیان سے تھا۔ جوابات کے تحت جو بات کہی گئی ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ پوپ کے اس بیان کے خلاف ویسا سخت ردِعمل ہونے والا نہیں ہے جو ڈنمارک کے کارٹون کے خلاف ہوا تھا۔ ۱۵ ستمبر کو جمعہ کے عبادتی اجتماع کی وجہ سے وقتی طور پر کچھ مظاہرہ ہو گیا، لیکن الگ سے اس اشو پر کچھ ہونے والا نہیں۔ ۲۹۔ الامین پبلک اسکول (کوچن) کے تحت، ۱۶ ستمبر ۲۰۰۶ کو ایک انٹراسکول اسلامک کوئز (InterSchool Islamic Quiz) منعقد کیا گیا۔ اسکول کی فرمائش پر ان کو گولڈ ورڈ کی اسلامی کتابیں بھیجی گئیں۔ جو وہاں کامیاب طلبا کو بطور انعام دی گئیں۔ اس سلسلے میں اسکول کی طرف سے ایک خط موصول ہوا ہے جو یہاں نقل کیا جاتا ہے:
‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues