Faith and Reason
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۴۲
کاانٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسیحی پوپ کے اُس بیان سے تھا، جو ۱۳ ستمبر ۲۰۰۶ کو مختلف اخباروں میں شائع ہوا۔ جواب میں بتایا گیا کہ اسلام کوئی نیا مذہب نہیں، وہ پچھلے مذاہب کا محفوظ ایڈیشن ہے۔ اسلام میں یہ اصول نہیں ہے کہ تلوار کے ذریعے اسلام کو پھیلایا جائے، بلکہ اسلام کا اصول یہ ہے کہ لا إكراه في الدين (البقرہ ۲۵۶) اسلام میں تلوار کا استعمال صرف دفاع کے لیے ہے، کسی اور مقصد کے لیے نہیں۔
۲۱۔ این ڈی ٹی وی (نئی دہلی) نے ’مقابلہ‘ چینل پر ۱۵ ستمبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ٹیلی کاسٹ تھا۔ ان کا موونگ اسٹوڈیو دفتر کے سامنے روڈ پر آیا اور اس طرح انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا موضوع مسیحی پوپ کا بیان تھا جو ۱۴ ستمبر ۲۰۰۶ کو میڈیا میں آیا ہے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ پوپ کا بیان ایک فکری چیلنج ہے، وہ کوئی مسلح حملہ نہیں۔ اس لیے اس کا جواب بھی فکری سطح پر دینا چاہیے۔ سڑکوں پر مظاہرہ کرنا، یا تشددانہ ردِ عمل ظاہر کرنا اس کا جواب نہیں۔
۲۲۔ ہندی روزنامہ دینک جاگرن (نئی دہلی) کے نمائندہ نے ۱۵ ستمبر ۲۰۰۶ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق مسیحی پوپ کے حالیہ بیان سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ اس قسم کی باتوں کے جواب میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ زمانہ آزادیٔ تقریر کا زمانہ ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے، لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ یہ زمانہ سائنٹفک استدلال کا زمانہ ہے۔ پوپ، یا اس قسم کے لوگ اپنی آزادیٔ رائے کے حق کو تو استعمال کرتے ہیں، لیکن وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ یہ زمانہ سائنٹفک استدلال کا زمانہ ہے۔ علمی دلیل کے بغیر رائے کا اظہار، زمانے کی اسپرٹ کے سراسر خلاف ہے۔
۲۳۔ ہندی روزنامہ دینک بھاسکرن کے نمائندہ مسٹر دویدی نے ۱۵ ستمبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ٹیلی فون پر ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق، پوپ کے حالیہ بیان سے تھا۔ جواب کے تحت بتایا گیا کہ پوپ نے یہ بات اپنی ایک تقریر میں کہی، جس کا عنوان تھا— فیتھ اینڈ ریزن:
Faith and Reason
یہ عجیب بات ہے کہ انھوں نے اپنے سات صفحے کے لکچر میں یہ کہا کہ مذہب کی تعلیمات کو عقلی دلائل کی روشنی میں بیان کرنا چاہیے، لیکن خود انھوں نے اسلام پر جو منفی ریمارک دیا اس کی کوئی علمی دلیل اپنے طویل لکچر میں انھوں نے پیش نہیں کی۔
۲۴۔ انگریزی روزنامہ دکن، ہیرالڈ کی نمائندہ مرشو بھا کھر جی نے ۱۶ ستمبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ٹیلی فون پر ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق، زیادہ تر اس سے تھا کہ پوپ بینڈ کٹ نے اپنے بیان پر معافی مانگ لی ہے۔ اس کے بعد اس معاملے میں مسلمانوں کا رویہ کیا ہونا چاہیے۔ جواب میں بتایا گیا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اب پوپ کے خلاف اپنی احتجاجی مہم کو ختم کردیں۔ البتہ یہ کام بدستور باقی ہے کہ پوپ نے اسلام کی نسبت
‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues