سچائی ۔ ایک مطالعہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۷
اتنی بڑی ضرورت ہے کہ اگر وہ مطلق نہ ہو تو ہم کو مفروضہ طور پر یہ یقین کرنا پڑے گا کہ سچائی مطلق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچائی کو مطلق نہ ماننا ایک ذہنی خودکشی ہے۔ جو لوگ ایسا کہتے ہیں وہ اپنے اس قول میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔ اگر وہ سنجیدہ ہوں تو کبھی وہ ایسا لفظ اپنے منہ سے نہ نکالیں ۔ سچائی کو مطلق نہ ماننا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہے کہ میں اپنی ماں کو مطلق مفہوم میں اپنی ماں نہیں مانتا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ہوسکتا ہے کہ وہ میری ماں ہو، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ میری ماں نہ ہو۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی سنجیدہ انسان غیر مطلقیت (non-absolution) کے اس نظریے کا تحمل نہیں کر سکتا۔ ٹھیک اسی طرح کوئی سنجیدہ انسان اس کا بھی تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ کہے کہ سچائی میرے نزدیک کوئی مطلق چیز نہیں۔ سچائی تو صرف ایک ریلیٹیو چیز ہے۔ یعنی A بھی سچائی ہو سکتی ہے اور B بھی اور اسی طرح C اور D بھی۔ یہاں تک کہ Z تک ہر چیز سچائی ہو سکتی ہے۔
یہاں تک کہ یہ بھی ممکن ہے کہ A سے Z تک کوئی بھی سچائی نہ ہو۔ بلکہ سچائی ان کے سوا کوئی اور ہو، یا سچائی ، سرے سے کوئی چیز ہی نہ ہو۔ یہ بلاشبہ ایک ایساذہنی تعیش (intellectual luxury) ہے جس کا کوئی سنجیدہ انسان کبھی تحمل نہیں کر سکتا۔
سنجیدہ طور پر کوئی شخص یہ تو کہہ سکتا ہے کہ میں نے ابھی سچائی کو نہیں پایا۔ میں ابھی صرف متلاشی (seeker) ہوں۔ مگر کوئی شخص سنجیدہ طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ سچائی کوئی مطلق چیز ہی نہیں۔ انسان جس کائنات میں رہتا ہے وہاں ہر چیز مطلق ہے۔ یعنی ایک اسٹار اسٹار ہے وہ کوئی ہاتھی نہیں۔ اسی طرح ایک ہاتھی ہاتھی ہے وہ کوئی اسٹار نہیں۔ اسی طرح ہر چیز معلوم طور پر ایک مطلق چیز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور اگر کوئی چیز مطلق حیثیت سے معلوم نہ ہوئی ہو تو انسان لگا تار اس کوشش میں رہتا ہے کہ وہ اس کو مطلق حیثیت میں دریافت کرلے۔
یہی معاملہ خود انسان کی شخصیت کا ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے مطلق پسند انسان ہے۔ وہ یقین میں جینا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ جب وہ ایک عورت کو ماں کی حیثیت سے جانے تو وہ مطلق طور پر اس کے ماں ہونے پر یقین کر سکے۔ اسی طرح جب وہ ایک پراپرٹی کو اپنی پراپرٹی کی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues