Al-Risala · February 2006 · page 37

Japanese are potentially Muslims.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۳۷

کی بنیاد پر ماننے کا مطالبہ ہونے لگا، وغیرہ۔ اس فرق کو ذہنی فریم ورک کا فرق کہا جا سکتا ہے۔ اسی فرق کی بنا پر مذکورہ مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ آج کا انسان جس فریم ورک میں باتوں کو سمجھتا ہے، اس فریم ورک میں اسلام کی تعلیم اس کو نہیں پہنچائی گئی۔ اس فرق کی بنا پر لوگوں کے اندر شک و شبے کی نفسیات پیدا ہو گئی۔

اس مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ فتوے کی زبان میں ان کو مرتد یا فاسق یا زندیق کہا جائے ۔ اس کے برعکس یہ ہونا چاہیے کہ ان کے کیس کو متلاشی حق کا کیس سمجھا جائے اور عصری دلائل کے ذریعے ان کے ذہن کو مطمئن کیا جائے ۔

غور کیجیے تو خود ان لوگوں کا کیس بھی یہی ہے جن کو معروف طور پر کافر (منکر) کہا جاتا ہے۔ ایک بیرونی سفر میں میری ملاقات جاپان کے ایک نومسلم سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ جاپان کے لوگ سادہ اور حقیقت پسند ہوتے ہیں۔ وہ اپنی اصل فطرت پر قائم ہیں۔ اسلام جو کہ دین فطرت ہے اس کو جاپانیوں کے سامنے پیش کیا جائے تو بہت جلد وہ اس کی صداقت کا ادراک کر لیں گے اور اپنے آپ کو اس کے ماننے پر مجبور پائیں گے۔ یہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جاپانی عوام امکانی طور پر مسلمان ہیں:

Japanese are potentially Muslims.

میں سمجھتا ہوں کہ یہی بات ان تمام لوگوں پر صادق آتی ہے جن کو عام طور پر کافر کہا جاتا ہے۔ میرے نزدیک لوگوں کو مسلم اور کافر میں تقسیم کرنا درست نہیں۔ میرے نزدیک زیادہ صحیح تقسیم یہ ہے کہ لوگوں کو مسلم اور متلاشیٔ حق میں تقسیم کیا جائے۔ کیوں کہ پیدائش کے اعتبار سے ہر شخص ایک ہی فطرت پر پیدا کیا گیا ہے (الروم: ۳۰) اس حیثیت سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ تمام انسان امکانی طور پر مسلم ہیں: Every human being is potentially Muslim. انسان کے بارے میں یہی نقطۂ نظر داعیانہ نقطۂ نظر ہے۔ داعی ہر ایک کے بارے میں یہی پر امید احساس رکھتا ہے۔ یہی پر امید احساس داعی کی اصل طاقت ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو داعی کبھی معتدل

‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues

Printed page