Al-Risala · February 2006 · page 36

جدید تعلیم یافتہ مسلمان

الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۳۶

زمانے میں اور ہر اگلی نسل میں امت کی اصلاح کا کام جاری رکھا جائے۔ امت میں جس قسم کا بگاڑ ہو اس کے مطابق، اس کی اصلاح کی منصوبہ بندی کی جائے۔

دعوت یا دعوت الی اللہ، اس کے مقابلے میں ایک خارجی عمل ہے۔ دعوت کا عمل ان لوگوں کے او پر انجام دینا ہے جو ابھی اسلام کے دائرے سے باہر ہیں۔ ان لوگوں کی نسبت سے دعوت کا کام یہ ہے کہ انھیں اسلام کی صداقت پر مطمئن کیا جائے۔ ممکن طریقے سے یہ کوشش کی جائے کہ وہ سچائی کو اسلام میں دریافت کر سکیں۔ وہ اسلام کو اپنا دین بناسکیں، اور اس طرح وہ خدا کی ابدی رحمتوں کے مستحق قرار پائیں۔ موجودہ زمانے میں دعوت کے اس عمل کے دو محاذ ہیں۔ ایک، وہ لوگ جو غیر مسلم کی حیثیت سے معروف ہیں۔ جو ابھی تک اسلام کے دائرے میں داخل نہیں ہوئے۔ لیکن موجودہ زمانے میں دعوت کے عمل کا ایک اور محاذ بن گیا ہے جو اپنی اہمیت کے لحاظ سے پہلے محاذ سے کم نہیں۔ یہ وہ پیدائشی مسلمان ہیں جن کو جدید تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ یہ لوگ بظاہر اگر چہ مسلم قوم میں شامل ہیں، وہ کم و بیش مسلم کلچر کو اپنائے ہوئے ہیں، حتیٰ کہ وہ علماء کی مجلسوں میں بھی حاضر ہوتے ہیں۔ مگر اندر سے اسلام پر ان کا یقین متزلزل ہو گیا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر شک کی نفسیات میں مبتلا ہیں۔ عملی طور پر دیکھیے تو ان کا کیس پہلی قسم کے لوگوں سے بہت زیادہ مختلف نہیں۔

پاکستان کے ڈاکٹر رفیع الدین نے اپنی کتاب ’’قرآن اور علم جدید‘‘ میں ایسے لوگوں کا حوالہ دیا تھا، اور کہا تھا کہ یہ لوگ اگر چہ بظاہر مسلمان ہیں مگر عملاً وہ ایک قسم کے ذہنی ارتداد میں مبتلا ہیں۔ مسلمانوں میں ذہنی ارتداد کی یہ نشاندہی بجائے خود درست ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا، اور اس مسئلے کا حل کیا ہے۔ میرے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں سائنٹفک انقلاب نے تمام معیارات بدل دیے ۔ ہر چیز پر نئے انداز سے تحقیق ہونے لگی۔ ہر چیز کی صحت نئی کسوٹی پر جانچی جانے لگی۔ ہر علم کو پھر سے مدوّن کیا جانے لگا۔

مثال کے طور پر قبل سائنسی دور میں قیاسی منطق کا رواج تھا، بعد سائنس دور میں سائنسی منطق کو اہمیت حاصل ہوگئی۔ پہلے مذہبی تعلمات کو عقیدے کی بنیاد پر مانا جاتا تھا، اب مذہبی تعلیمات کو عقل

‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues

Printed page