دعوتِ سفر
الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۴۰
ہے۔ مگر ایسی کسی تحریک کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلتا۔ ایسی تحریک تخریبِ غیر کے لیے تو مفید ہوتی ہے مگر وہ تعمیرِ خویش کے لیے بالکل مفید نہیں ہوتی۔
تحریک کا دوسرا طریقہ وہ ہے جو انفرادی اپروچ کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اس دوسرے طریقے میں سارا فوکس فرد کی اصلاح پر دیا جاتا ہے۔ اس کا نشانہ افراد سے چل کر عوام تک پہنچنا ہوتا ہے، نہ کہ عوام کی بھیڑ اکٹھا کر کے افراد کو اپنے قبضے میں لینا۔
کسی مشن کے لیے کام کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک وہ جس کو سیاسی ماڈل کہا جا سکتا ہے اور دوسرا وہ جس کو روحانی ماڈل کہا جا سکتا ہے۔ دونوں ہی کا مائنس پوائنٹ اور پلس پوائنٹ ہے۔ سیاسی ماڈل میںکراؤڈکو ایڈریس کیا جاتا ہے۔ اس میں ہمیشہ کسی ایسے منفی اشو کو لیا جاتا ہے جو خارجی ہو۔ کیوں کہ کوئی خارجی اشوہی کراؤڈ کا اشو بن سکتا ہے۔ سیاسی ماڈل کا پلس پوائنٹ یہ ہے کہ اس میں بہت جلد لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہو جاتی ہے۔ لیکن سیاسی ماڈل کا مائنس پوائنٹ یہ ہے کہ اس میں individual ذہن ایڈریس نہیں ہوتا۔ اس لیے اس میں فرد کی تعمیر ممکن نہیں ہوتی۔ کمیاتی اعتبار سے مشن بہت بڑا دکھائی دیتا ہے لیکن کیفیاتی اعتبار سے وہ بالکل nill ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرا ماڈل روحانی ماڈل ہے۔ روحانی ماڈل میں فرد کے ذہن کو ایڈریس کرنے کی کوشش کی جاتی ہے نہ کہ کسی کراؤڈ کو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ روحانی ماڈل کے تحت بھیڑ اکٹھا نہیں ہوتی۔ البتہ اس میں فرد کی تعمیر گہرائی کے ساتھ ہوتی ہے۔ مشن سے وابستہ ایک ایک فرد prepared mind اور purified soul بن جاتا ہے۔ روحانی ماڈل، کوانٹی کے اعتبار سے بظاہر کم دکھائی دیتا ہے۔ مگر کوالٹی کے اعتبار سے وہ بہت عظیم ہوتا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ سیاسی ماڈل صرف تخریبی واقعہ وجود میں لاتا ہے۔ جب کہ روحانی ماڈل تعمیری واقعے کو وجود میں لانے کا سبب بنتا ہے۔ الرسالہ مشن میں سیاسی ماڈل کو اختیار نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس میں روحانی ماڈل کو اختیار کیا گیا ہے۔ اس میں ساری کوشش اس بات کی کی گئی ہے کہ ایک ایک فرد کا ذہن بنایا جائے۔ تیار افراد کی ایک ٹیم بنائی جائے_ ایسے افراد جن میں سے ہر شخص ایک طرف سنجیدہ ہو اور دوسری طرف وہ آرٹ آف تھنکنگ کو
‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues