Al-Risala · February 2006 · page 41

دعوتِ سفر

الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۴۱

بخوبی طور پر جانتا ہو۔ الرسالہ مشن کا فطری کورس یہ ہے کہ افراد کی ایک مضبوط ٹیم بنے اور پھر یہ مشن کے پیغام کو وسیع تر انسانیت تک پہنچادے۔

مشہور سیرت نگار محمد بن اسحاق (وفات: ۷۸ھ) نے ایک روایت نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ حدیبیہ (۶۲۳ء) کی ادائیگی کے بعد، اپنے منتخب اصحاب کو خطاب کیا۔ آپ نے فرمایا کہ: ’’اللہ نے مجھے سارے عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، پس تم میرے بارے میں اختلاف نہ کرو، جیسا کہ حواریوں نے عیسیٰ بن مریم سے اختلاف کیا۔ آپ کے اصحاب نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول! حواریوں نے کس طرح اختلاف کیا تھا؟ آپ نے فرمایا کہ: عیسیٰ بن مریم نے اُنھیں اس چیز کی طرف بلایا جس کی طرف میں نے تمہیں بلایا ہے۔ پس جس کو اُنھوں نے قریب کے علاقے کی طرف بھیجا تو وہ اس پر راضی ہو گیا اور اس کو مان لیا۔ اور جس کو اُنھوں نے دور کے علاقے کی طرف بھیجا تو وہ اس کو پسند نہیں آیا اور اُس نے گرانی محسوس کی۔ عیسیٰ بن مریم نے اللہ سے اس کی شکایت کی۔ تو جن لوگوں کو ناگواری ہوئی اُن کا حال یہ ہوا کہ اُن میں سے ہر ایک اس قوم کی زبان بولنے لگا جس کی طرف اس کو جانے کے لیے کہا گیا تھا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے کچھ قاصد بھیجے اور ان کو بادشاہوں کے نام مکتوب لکھ کر دیا۔ اس میں ان بادشاہوں کو اسلام کی طرف بلایا گیا تھا۔ (سیرۃ النبی لابن ہشام، الجز ء الرابع، ۷۸۲-۲۷۹) مذکورہ روایت میں حضرت مسیح کے جس واقعے کا ذکر ہے، اُس کا ذکر قرآن میں بھی اجمالی طور پر آیا ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے:

’’اے ایمان والو! تم اللہ کے مددگار بنو، جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا: کون اللہ کے واسطے میر امددگار ہوتا ہے۔ حواریوں نے کہا: ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ پس بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی، ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کی۔ پس وہ غالب ہو گئے۔ (الصف ۱۴)

جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے صلح حدیبیہ کے بعد اطراف عرب کے تقریباً

‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues

Printed page