بنگلور کا سفر
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۲
بنگلور کا سفر
آندھرا پردیش میں پٹا پرتھی (Puttaparthi) ایک ٹاؤن ہے۔ یہاں شری ستیہ سائ آرگنائزیشن کے تحت ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اس سلسلے میں بنگلور میں بھی چند دن قیام رہا۔ یہ سفر ۲۰ جولائی ۲۰۰۵ کو شروع ہوا اور ۲۷ جولائی ۲۰۰۵ کو ختم ہوا۔ اس سفر کی مختصر روداد یہاں درج کی جاتی ہے۔
۲۰ جولائی کی صبح کو جب کہ میں روانگی کے لیے تیار ہو رہا تھا، مولا نا محمد ذکوان ندوی ملاقات کے لیے آئے۔ وہ اس سے پہلے سویڈن (اسٹاک ہوم) میں تھے۔ آج کل وہ نظام الدین ویسٹ (نئی دہلی) میں رہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ آج رات کو انھوں نے ایک خواب دیکھا۔ انھوں نے دیکھا کہ ”وہ ایک مقام پر ہیں جہاں کثرت سے ہرے بھرے درخت ہیں اور پیتے کے بھی کچھ درخت نظر آتے ہیں جس کودیکھ کر وہ کہتے ہیں کہ ہرا بھرا درخت خدا کا کتنا بڑا معجزہ ہے۔ مٹی جیسی چیز سے ہرا بھر درخت نکل کر زمین پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس سے بڑا معجزہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ “ عجیب اتفاق ہے کہ جب میں پٹا پرتھی پہنچا تو وہاں جس گیسٹ ہاؤس میں مجھے ٹھہرایا گیا اس کے باہر ہرے بھرے درخت تھے جن میں پیتے کے درخت بھی شامل تھے۔
ائر پورٹ کے لیے روانگی ہوئی تو سڑک کے دونوں طرف درختوں کی قطاریں تھیں۔ ان درختوں کو دیکھ کر میرا وہی حال ہوا جو مولانا محمد ذکوان ندوی نے خواب میں دیکھا تھا۔ ہرے بھرے درخت قدرت کا عجیب وغریب نمونہ ہیں۔ جو لوگ پیغمبروں سے حسّی معجزوں کی مانگ کرتے تھے وہ اندھے لوگ تھے۔ ان کے چاروں طرف تخلیق کے معجزے بکھرے ہوتے تھے مگر ان قدرتی مناظر کی معجزاتی حیثیت کو وہ دیکھ نہیں پاتے تھے اس لیے وہ کسی نئے معجزے کی مانگ کرتے تھے۔ فطرت کا معجزہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ ان کے نزدیک معجزہ صرف وہ تھا جو طلسماتی طور پر ظاہر ہو کر سامنے آجائے۔ دہلی ائر پورٹ پر پہنچا تو یہاں ایک سبق آموز تجربہ ہوا۔ مجھے ٹائلٹ جانے کی ضرورت پیش آئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues