بنگلور کا سفر
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۳
حسب معمول میں نے ٹائلٹ کے اس حصے میں جانا چاہا جس کے اوپر معذور (disabled) لکھا رہتا تھا۔ اس کے بجائے اب وہاں فزیکلی چیلنجڈ (physically challenged) لکھا ہوا تھا۔ میں اس لفظ پر سوچتا رہا یہاں تک کہ ایک بہت بڑی حقیقت کا انکشاف ہوا۔ ہزاروں سال سے تمام فلسفی اور مفکرین اور مصلحین یہ کہتے رہے ہیں کہ اس دنیا میں مصائب (suffering) کیوں ہیں۔ انتہا پسند لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اس دنیا کا پیدا کرنے والا اگر خدا ہے جو مذہبی عقیدے کے مطابق احسن الخالقین ہے پھر دنیا میں مصیبت (suffering) کیوں۔ میری سمجھ میں آیا کہ یہ مسئلہ دراصل غلط تسمیہ (wrong nomenclature) کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ یہ لوگ جس چیز کو مصائب کہتے ہیں وہ دراصل چیلنج ہے جو انسانی ترقی کے لیے مہمیز (incentive) کا کام کرتا ہے۔ اس چیلنج کی کئی صورتیں ہیں: Physically challenged, economically challenged, socially challenged. فلسفے میں جس چیز کو برائی کا مسئلہ (problem of evil) کہا جاتا ہے وہ دراصل چیلنج کا مسئلہ (pbromlem of challenge) ہے۔ اس کا تعلق فطرت کے قانون سے ہے۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو خدا کے تخلیقی منصوبے (creation plan) کی نظر سے دیکھا جائے۔ اس تخلیقی نقشے کی حکمت کو میں نے خاص طور پر آرنلڈ ٹائن بی کی کتاب "A Study of History" کے مطالعے سے سمجھا۔ اس کے مطابق زندگی کا نظام چیلنج، ریسپانس، میکانزم (challenge-response-mechanism) کے اصول پر چل رہا ہے۔ یعنی فطرت کا نظام چیلنج کے ذریعے انسان کو جھٹکے دے کر بیدار کرتا ہے۔ اس طرح انسان کی سوئی ہوئی طاقتیں جاگتی ہیں اور انسان بڑے بڑے کام کر ڈالتا ہے۔ مصلحین اپنی خود ساختہ سوچ کے تحت، بے مسئلہ قسم کا جو آئیڈیل سماج بنانا چاہتے ہیں وہ حقیقت میں ترقی کے راستے میں رکاوٹ ہے جو شخص آسودگی اور فراوانی (affluence) کے ماحول میں پرورش پاتا ہے اس کی ذہنی صلاحیتیں بیدار نہیں ہوتیں۔ وہ ایک قسم کا ذہنی بونا (intellectual dwarf) بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ مشکل حالات میں پرورش پاتے ہیں وہ متحرک ہو کر بڑے بڑے کام کرتے ہیں۔ تاریخ کے بڑے بڑے کام ان لوگوں نے انجام دیے ہیں جو غریب خاندان میں پیدا ہوئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues